قسط نمبر 91
آپ کے کھانے میں شریک جنات
اکابر پر اعتماد
آج کی دکھیاری اور پریشان امت کو جنات کس کس طرح ستار ہے ہیں ایسے لوگوں کی بپتا کو جب ماہنامہ عبقری نے شائع کیا تو بہت سے لوگوں نے اسے نفسیایاتی الجھنیں کہہ کر پس پشت ڈالنے کی کوشش کی۔۔ آئیے اپنی بنیادوں میں اس کا حل تلاش کرتے ہیں۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ تمہارے ہر کام کے وقت یہاں تک کہ کھانے کے وقت بھی شیطان تم میں سے ہر ایک کے ساتھ رہتا ہے، لہذا جب کھانا کھاتے وقت کسی کے ہاتھ سے لقمہ گر جائے تو اسے چاہیے کہ اس کو صاف کر کے کھالےاور شیطان کے لیے نہ چھوڑے۔ ( صحیح مسلم)
شیاطین اور فرشتے اللہ کی وہ مخلوق ہیں جو یقیناً اکثر اوقات میں ہمارے ساتھ رہتے ہیں لیکن ہم انکو نہیں دیکھ سکتے ، آپ صلى الله عليه وسلم نے اس بارے میں جو کچھ بتایا ہے اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ علم سے بتلایا ہے اور وہ بالکل حق ہے اور آپ صلى الله عليه وسلم کو کبھی کبھی ان کا اسطرح مشاہدہ بھی ہوتا تھا جس طرح ہم اس دنیا کی مادی چیزوں کو دیکھتے ہیں جیسا کہ بہت سی احادیث سے معلوم ہوتا ہے۔ اس لیے ایسی حدیثوں کو جن میں مثلاً کھانے کی وقت شیاطین کے ساتھ ہونے اور کھانے پر اللہ کا نام نہ لیا جائے تو اس میں جنات کے شریک ہو جانے ، یا گرے ہوئے لقمہ کا شیطان کا حصہ ہو جانے کا ذکر ہے، تو ان حدیثوں کو مجاز پر پر محمول کرنے کی بالکل ضرورت نہیں ۔ ( بلکہ یہ ایک سچی حقیقت ہے )
( بحوالہ کتاب بکھرے موتی حصہ 5ص479، مصنف: حضرت مولانا محمد یونس پالنپوری حفظہ اللہ ، ناشر بلسم پبلی کیشنز، لاہور مکتبہ ) پیٹ سے جن کا نکلنا: ایک عورت آپ صلى الله عليه وسلم کے پاس اپنے بیٹے کو لے کر آئی اور عرض کرنے لگی یا رسول اللہ صلى الله عليه وسلم میرے بیٹے کو جنوں عارض ہو جاتا ہے اور یہ ہم کو بہت تنگ کرتا ہے، آپ صلى الله عليه وسلم نے اس کے سینہ پر ہاتھ پھیرا اور دعا کی۔اس لڑکے نے قے کی اور اس کے پیٹ سے سیاہ کتے کے پلے کی طرح کوئی چیز نکلی۔ (مسند دارمی، ج 1 ص 24 بحوالہ کتاب قوم جنات اور امیر اہلسنت ، پیش کش مجلس مدینہ العلمیہ ، ناشر: مکتبہ المدینہ کراچی، مکتبہ بریلوی)
