(مولانا محمد نیاز، فاضل: جامعہ مظاہرالعلوم، آرائے بازار، لاہور)
’’البرکۃ مع اکابرھم‘‘ الحمد للہ آپ حضرات نے ’’اکابر پر اعتماد‘‘ کے نام سے جو سلسلہ شروع کیا ہے یہ بہت ہی لائقِ تعریف و تحسین ہے کیونکہ اس کو دیکھ کر مجھے اپنے استاذ امام الصرف والنحو حضرت مولانا مفتی محمد حسن صاحب چشتی دامت برکاتہم کی وہ نصیحتیں یاد آتی ہیں جو وہ مدرسہ کی چار دیواری میں ہم کو نہایت مخلص ہو کر کیا کرتے تھے اور وہ ساری نصیحتیں ’’اکابر پر اعتماد‘‘ سے متعلق ہوتی تھیں انتہائی خوشی ہوتی ہے کہ جو کام استاذِ محترم جامعہ مدنیہ جدید کی چار دیواری میں بیٹھ کر کیا کرتے تھے وہی کام عبقری سارے عالم میں پھیلانے کا ذریعہ بن رہا ہے۔
’’اکابر پر اعتماد‘‘ کیسے بنے گا؟ اس حوالہ سے میں استاد جی کے چند سنہری ملفوظات ذکر کرتا ہوں فرمایا اگر تمہارے پاس ’’اکابر پر اعتماد‘‘ اور ان کی محبت موجود ہے تو پھر اگر علم تمہارے پاس قطرہ ہوگا اللہ اس کو سمندر بنا دے گا اور اگر ’’اکابر پر اعتماد‘‘ اور ان سے محبت نہیں تو پھر اگر علم سمندر ہوا وہ بھی قطرہ بن جائے گا۔ فرمایا کرتے تھے میری کوشش ہوتی ہے کہ اپنے طلباء اور علمائے کرام کو ’اکابر پر اعتماد‘ سے جوڑوں ان کے دلوں میں اکابر سے محبت اور اعتماد کو پختہ کروں کیونکہ ’’اکابر پر اعتماد‘‘ و محبت کی وجہ سے فتنوں سے اللہ حفاظت فرماتے ہیں۔ فرمایا ایک مرتبہ میں امام اہلسنت مولانا سرفراز خان صاحب نقشبندیؒ کے ہاں گیا تو انہوں نے مجھے خلافت سے نوازا اور فرمایا کہ مجھے معلوم ہے کہ آپ طلباء کو ’’اکابر پر اعتماد‘‘ سے جوڑتے ہو یہ بہت اچھی بات ہے۔
اکثر فرماتے ہیں کہ ہم دوسروں کے طرف مائل کیوں ہوں ہمیں تو اللہ تعالیٰ نے ایسے اکابرین سے جوڑا ہوا ہے جن کا جنتی ہونا اللہ نے دنیا میں دکھا دیا۔۔۔! جن کی قبروں سے جنت کی خوشبو آئی۔ فرمایا کہ اکابر سب بڑے تھے اور ہر بڑے پر کسی نہ کسی بڑے کا سایہ ضرور ہوتا تھا فرمایا ’’اکابر پر اعتماد‘‘ کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ سارا بوجھ اکابرین پر چلا جاتا ہے ہم چھوٹوں کا کام یہ ہے کہ اپنے بڑوں سے رہنمائی لے لیں اور بھاگتے ہوئے جنت میں پہنچ جائیں۔
فرمایا اپنے بڑوں کی مجلس میں آنے جانے سے دل بھی بڑا ہو جاتا ہے اور اگر بڑوں کی مجلس میں آنا جانا نہ ہو تو پھر ہر بات پر اعتراض ہوتا ہے کہ یہ کیوں ہوا کیسے ہوا۔۔۔!
قارئین محترم! آپ حضرات کو اندازہ ہو گیا ہوگا کہ ہمیں اس وقت ’’اکابر پر اعتماد‘‘ اور ان سے محبت کی شدید ضرورت ہے۔ اللہ جزائے خیر عطا فرمائے ! میرے پیارے مرشد حضرت اقدس شیخ الوظائف حکیم محمد طارق محمود مجذوبی چغتائی صاحب کو جنہوں نے ’’اکابر پر اعتماد‘‘ کے نام سے یہ سلسلہ شروع کروا کر ہم سب پر احسانِ عظیم کیا۔۔!
