احادیث میں جنات کی غذا کا ثبوت

چند دن پہلے عبقری کے فیس بک پیج پر ایک پوسٹ ڈالی گئی کہ قربانی کا گوشت خود کھا ئیں اور ہڈیاں جنات کو دیں اس پوسٹ پر کم علم طبقے کی طرف سے اعتراض کیا گیا کہ جنات کی خوراک کا قرآن وحدیث میں کہاں ثبوت ملتا ہے؟ ان سب حضرات کی خدمت میں محدث زمانہ مفسر امام جلال الدین سیوطی کی کتاب سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث اور اکابرین امت رحمہم اللہ کے چند اقوال پیش کیے جارہے ہیں۔ امید ہے کہ محترم قارئین بغیر سوچے سمجھے اعتراض کرنے کی بجائے اپنی مصروف زندگی میں سے روزانہ صرف ایک گھنٹہ وقت نکال کر خود بھی قرآن وحدیث کو سمجھنے اور اپنے اکابر و اسلاف کی باتیں پڑھنے کی طرف توجہ کریں گے ان شاء اللہ ۔

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جنات سے ملاقات والی رات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنوں سے کہا : ہر وہ ہڈی تمہاری غذا ہے، جس پر اللہ تعالیٰ کا نام لیا گیا ہو ( یعنی حلال ذبیحہ اور قربانی کے گوشت کی تمام ہڈیاں اس میں شامل ہیں ) (بحوالہ: مسند احمد صحیح مسلم) امام ترمذی کے یہ الفاظ ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نےفرما یا: جنات کی غذاوہ ہڈیاں ہیں، جن پر اللہ تعالیٰ کا نام نہ لیا گیا ہو ( بحوالہ : جامع ترمذی)

علمائے کرام نے ان دونوں احادیث میں اس طرح مطابقت پیدا کی ہے کہ مسلم شریف کی حدیث میں مسلمان جنات کی غذا کا حکم ہے اور ترمذی شریف کی حدیث میں کافر جنات کی غذا کا بیان ہے۔ امام بہیقی فرماتے ہیں کہ جنات جب گو بر کا ٹکڑا اٹھاتے ہیں تو وہ ان کیلئے چھوہارہ بن جاتا ہے اور جب کوئی ہڈی اٹھاتے ہیں تو وہ گوشت سے بھر جاتی ہے (بحوالہ : دلائل النبوۃ)


حضرت یزید تابعی فرماتے ہیں کہ تمام مسلمانوں کے گھروں کی چھتوں میں مسلمان جنات رہتے ہیں جب کھانے کیلئے دستر خوان لگایا جاتا ہے، تو وہ نیک جنات بھی نیچے اتر کر اس کھانے میں شریک ہوتے ہیں، انہی کے ذریعے اللہ تعالیٰ شریر جنات کو بھگاتا ہے بحوالہ : مكائد الشیطان، مصنف: ابن ابی الدنيا وكتاب العظمية، مصنف: امام ابوالشیخ)

قاضی ابو یعلی فرماتے ہیں کہ جنات بھی انسانوں کی طرح کھاتے پیتے ہیں ۔ حضرت وہب بن منبہ فرماتے ہیں کہ وہ جنات جو کھاتے پیتے اور آپس میں نکاح کرتے ہیں وہ بھوت چڑیل اور دیو کی شکل میں ہوتے ہیں۔

بحوالہ کتاب: لقط المرجان فی احکام الجان صفحہ 65 مصنف: علامہ جلال الدین سیوطی ناشر: مکتبہ برکات المدینہ کراچی

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2025