قسط نمبر 104
امام ابنِ حبان رحمۃ اللہ علیہ کا دعا قبول کروانے کا خاص طریقہ
اکابر پر اعتماد
عملیات کی دنیا میں بہت سے وظائف ایسے ہیں، جن کو پڑھنے کے بعد بزرگانِ دین کے وسیلے سے دعا کرنی ہوتی ہے۔ ماہنامہ عبقری میں بھی ایسے کئی اعمال شائع ہو چکے ہیں، کیونکہ صالحین کے وسیلے سے دعا مانگنا ہمارے تمام اکابر و اسلاف سے ثابت ہے۔
مفتی اعظم حضرت مولانا مفتی محمد فرید رحمۃ اللہ علیہ (مکتبہ دیوبند) لکھتے ہیں:
"تمام اکابرین توسل بالصالحین کے قائل ہیں۔ مثلاً حضرت گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ اور مولانا تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کی عبارات کو ملاحظہ کریں: المہند علی المفند”
(بحوالہ: فتاویٰ فریدیہ، جلد 1، صفحہ 348، اشاعت: مولانا حافظ حسین احمد، مہتمم دارالعلوم صدیقیہ زوبی، ضلع صوابی، پاکستان)
حضرت مولانا جلال الدین امجدی رحمۃ اللہ علیہ (مکتبہ بریلویہ) اپنی کتاب میں 12 مشائخ سے وسیلہ کو ثابت کر کے لکھتے ہیں:
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور تمام بزرگانِ دین کا یہی عقیدہ ہے کہ بزرگوں کو وسیلہ بنانا جائز ہے — زندگی میں بھی اور وفات کے بعد بھی۔
(بحوالہ: بزرگوں کے عقیدے، صفحہ 301، ناشر: اکبر بک سیلرز، لاہور)
مشہور محدث، اور صحیح ابنِ حبان کے مصنف، امام ابنِ حبان رحمۃ اللہ علیہ (مکتبہ اہلِ حدیث) فرماتے ہیں:
"میں نے شیخ علی بن موسیٰ رحمۃ اللہ علیہ کی کئی مرتبہ زیارت کی۔ مجھے جب بھی کوئی مصیبت پیش آئی، تو میں ان کی قبر پر جا کر اللہ سے دعا مانگتا، اور وہ دعا قبول ہوتی اور پریشانی دور ہو جاتی۔
قد جرّبتُه مراراً فوجدتُه
(یعنی: میں نے اس کا بار بار تجربہ کیا، اور اسے ایسا ہی پایا)”
(بحوالہ: کتاب الثقات، جلد 8، صفحہ 407، ناشر: مجلس دائرۃ المعارف العثمانیہ، حیدرآباد دکن، ہند)
