امام ابنِ حبان رحمۃ اللہ علیہ کا دعا قبول کروانے کا خاص طریقہ

عملیات کی دنیا میں بہت سے وظائف ایسے ہیں، جو پڑھنے کے بعد بزرگانِ دین کے وسیلے سے دعا کرنی ہوتی ہے۔ ماہنامہ عبقری میں بھی ایسے کئی اعمال شائع ہو چکے ہیں، کیونکہ صالحین کے وسیلے سے دعا مانگنا ہمارے تمام اکابر و اسلاف سے ثابت ہے۔

مفتی اعظم مولانا مفتی محمد فرید رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: تمام اکابرین توسل بالصالحین کے قائل ہیں۔ مثلاً حضرت گنگوہی اور مولانا تھانوی رحمۃ اللہ علیہما کی عبارتیں پڑھنے کیلئے ملاحظہ کریں: المہند علی المفند

حضرت مولانا جلال الدین امجدی رحمۃ اللہ علیہ (مکتبہ بریلویہ) اپنی کتاب میں 12 مشائخ سے وسیلہ کو ثابت کر کے لکھتے ہیں کہ: صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور تمام بزرگانِ دین رحمۃ اللہ علیہم کا یہی عقیدہ ہے کہ بزرگوں کو وسیلہ بنانا جائز ہے۔ زندگی میں بھی اور وفات کے بعد بھی۔

مشہور محدث اور صحیح ابن حبان کے مصنف امام ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ (مکتبہ اہل حدیث) فرماتے ہیں کہ: میں نے شیخ علی بن موسیٰ رحمۃ اللہ علیہ کی کئی مرتبہ زیارت کی۔ مجھے جب بھی کوئی مصیبت پیش آئی تو ان کی قبر پر جا کر اللہ سے دعا مانگی تو وہ دعا قبول ہوئی اور پریشانی ٹل گئی۔ قد جربتہ مراراً فوجدتہ (یعنی میں نے اس کا تجربہ کئی بار کیا اور اس کو پُر تاثیر پایا)

پوسٹ کو شیئر کریں

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026