اندھیروں میں اللہ تعالی سے دل لگانے کا فائدہ

حضرت جنید بغدادی فرماتے ہیں کہ میں نے شیخ سری سقطی کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں ایک دن سفر پر نکلا تو ایک پہاڑ کے دامن میں اندھیری رات نے گھیر لیا۔ وہاں میرا کوئی جاننے والا نہ تھا۔ اچانک کسی نے آواز دی کہ : اندھیروں میں دل نہیں چھلنے چاہئیں بلکہ محبوب ( اللہ تعالیٰ) کے حاصل نہ ہونے کے خوف سے نفوس کو چھلنا چاہیے یہ سن کر میں گھبرا گیا۔ اسی وقت آواز آئی کہ ہم اللہ پر ایمان رکھنے والے مومن جنات ہیں۔ یہاں اور بھی بہت مومن جنات موجود ہیں اور ان جنات کے پاس مجھ سے بھی زیادہ ایمان ہے۔

دوسرے جن نے مجھے نصیحت کی : خدا کا غیر اس وقت نہیں نکلتا جب تک کہ دائمی طور پر بے گھر نہ رہا جائے ۔ تیسرے جن نے مجھے کہا: جواند ھیروں میں اللہ تعالی کے ساتھ مانوس رہتا ہے، اس کو کسی قسم کا فکر نہیں ہوتا ۔ صحیح فرماتے ہیں: میں نے ان جنات سے کہا: مجھے کوئی نصیحت کرو۔ وہ تمام جنات کہنے لگے : اللہ تعالیٰ تقوی اختیار کرنے والے دلوں کو ہی جلا بخشتا ہے، جو غیر خدا کی طمع کرے گا اس نے ایسی جگہ کی لالچ کی جو لالچ کے قابل نہ تھی۔ اس کے بعد انہوں نے مجھے الوداع کیا اور چلے گئے۔ میں اس کلام کی برکت ہمیشہ اپنے دل میں محسوس کرتا ہوں۔

محترم قارئین! ہمارے اکا بڑ کی جنات سے ملاقاتوں کی طرح جنات کے پیدائشی دوست حضرت علامہ لاہوتی صاحب دامت برکاتہم کے واقعات بھی سو فیصد حقیقت پر مبنی ہیں۔ اب جو لوگ ماہنامہ عبقری میں بیان کردہ ایسی باتوں کو صرف عقل کی ترازو میں تولتے ہیں، وہ اپنے اکابر کے واقعات کو کیا کہیں گے۔

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2025