انسانی جسم میں جنات کے داخل ہو جانے پر امام ابن تیمیہ کا فتوی

علامہ ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے فتاویٰ میں لکھا ہے: اہل السنہ کا اس بات پر اتفاق ہے کہ جنّات انسانوں کے جسم میں داخل ہو سکتے ہیں، قرآن مجید میں ارشاد ہے کہ ”جو لوگ سُود کھاتے ہیں، ان کا حال اس شخص کی طرح ہوتا ہے، جنہیں چُھو کر شیطان نے باؤلا کر دیا ہو“ (البقرہ: 275) رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: شیطان انسان کے جسم میں خون کی طرح دوڑتا ہے (صحیح بخاری) امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کے صاحبزادے امام عبداللہ بن احمد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے پوچھا: کچھ لوگ کہتے ہیں کہ جنّ، انسان کے جسم میں داخل نہیں ہو سکتا؟ امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:

بیٹا! وہ لوگ جھوٹ بولتے ہیں، سچ تو یہ ہے کہ آسیب زدہ شخص کی زبان سے جنّ ہی بات کرتا ہے۔ اس پر امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ جنّ نہ صرف بولتا ہے بلکہ انسان پر سواری کرتا ہے، جس کے نتیجے میں آسیب زدہ شخص بھاری بھاری مشینوں کو آسانی سے اٹھا سکتا ہے، جو شخص کسی آسیب زدہ انسان کا چشم دید گواہ ہو، وہ دیکھتا ہے کہ اس وقت اس انسان کی زبان سے کوئی اور بول رہا ہے۔ امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ مزید فرماتے ہیں: ائمہ مسلمین میں سے کوئی بھی اس بات کا منکر نہیں کہ جنّات انسانوں کے جسم میں داخل ہو سکتے ہیں۔ جو شخص اس بات کا انکار کرتا ہے اور کہتا ہے کہ شریعت سے اس کا ثبوت نہیں ملتا، وہ شریعت پر تہمت لگاتا ہے۔ جن لوگوں نے اس بات کا انکار کیا ہے، وہ معتزلہ (قرآن کو مخلوق کہنے والوں) کا ایک گروہ ہے۔

محترم قارئین! جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ روحانی علاج صرف ایک ٹوپی ڈرامہ ہے، حقیقت میں جنّ نہیں ہوتا، صرف عامل لوگوں کو نظر آتا ہے، وہ لوگ قرآنی آیت، نبوی ﷺ حدیث اور امام ابن تیمیہ کے اس فتوے کو کیا کہیں گے؟

پوسٹ کو شیئر کریں

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026