عبقری اور تسبیح خانے میں اکثر ایک عمل بتایا جاتا ہے کہ آئینے میں اپنے آپ کو دیکھتے ہوئے "بِسْمِ اللّٰہِ مَاشَاءَ اللّٰہُ لَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ” پڑھنے سے انسان کو لگی ہوئی نظر بد ٹوٹ جاتی ہے، جادو بڑی آسانی سے دُھل جاتا ہے اور جنات پیچھا چھوڑ دیتے ہیں۔ جن مرد و خواتین کو مخصوص امراض لاحق ہوں، ان کیلئے یہ عمل اتنا کارگر ثابت ہوا ہے کہ سینکڑوں لوگوں کے مشاہدات تحریری طور پر سامنے آئے۔ اگر یہی کلمات اپنی اولاد کو دیکھتے ہوئے پڑھے جائیں تو اولاد بیماریوں، حادثات اور گناہوں سے محفوظ رہتی ہے۔ کچھ لوگ اپنی لاعلمی کی بناء پر بلاوجہ کا اعتراض کرتے ہیں کہ عبقری اور تسبیح خانے سے بتایا جانے والا کوئی بھی عمل مستند نہیں ہوتا۔ حالانکہ ان کی یہ بات حقیقت کے بالکل برعکس ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ اللہ جل شانہٗ نے ایک شخص کو اپنی ولایت کیلئے چنا ہو اور وہ لوگوں کو اسی رب سے دُور کر دے؟ آئیے دیکھتے ہیں کہ تسبیح خانے اور عبقری میں بیان کیے جانے والے اس عمل کے پیچھے کن ہستیوں کا فرمان پوشیدہ ہے۔
زبدۃ المحدثین علامہ سید صدیق حسن خان بھوپالیؒ (مکتبہ اہل حدیث) لکھتے ہیں کہ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے گھر کے دروازے پر یہ آیت لکھوائی ہوئی تھی ’مَاشَاءَ اللّٰہُ لَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ‘ کسی نے اس کی وجہ پوچھی تو فرمایا: سورۃ کہف میں ارشاد ہے کہ آدمی کو اپنے باغ میں داخل ہوتے وقت یہ آیت پڑھ لینی چاہئے۔ پس میرا گھر میرا باغ ہے۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اپنے اہل (بیوی، بچوں میں) اور مال (کاروبار، زمینداری، تجارت) میں ہمیشہ خوشی دیکھے، تو اسے چاہئے کہ انہیں دیکھتے ہوئے یہ آیت پڑھ لیا کرے۔ کیونکہ اس کی برکت سے ان پر موت کے سوا کوئی آفت نہیں آئے گی (ذکرہ الشر جی بلا تخریج)
نواب سید محمد صدیق حسن خان بھوپالی رحمۃ اللہ علیہ اس سے آگے لکھتے ہیں کہ میں نے اس عمل کا تجربہ کیا تو اسے صحیح پایا۔
(بحوالہ کتاب: الداء والدواء، صفحہ 54 ناشر: اسلامی کتب خانہ، فضل مارکیٹ، اردو بازار، لاہور)
محترم قارئین! اس موضوع کے متعلق اگر آپ کے پاس بھی حوالہ جات ہوں تو ہمیں ضرور بھیجیں، تاکہ جو لوگ قرآن و سنت سے ماخوذ وظائف کو خود ساختہ اور من گھڑت کہہ کر مخلوقِ خدا کے دل میں وساوس پیدا کرتے ہیں، ان لوگوں کی اصلاح اور ہدایت کیلئے محنت اور دعا کی جا سکے۔
