یہ فتنوں کا دور ہے آزمائشوں کا دور ہے گناہوں کے اسباب آسان سے آسان ہوتے جارہے ہمیں چاہیے کہ نیکی کے معاملےکو بھی آسانی کے ساتھ پیش کریں جہاںتک شریعت مبارکہ نے آسانی دی ہو۔۔۔شب برأ ت کی مبارک رات جو مقدر سنوارنے والی رات ہے کس طرح ہماری بے توجہی یا خرافات کی نظر ہوتی جارہی تھی تمام مکاتب فکر کے اہل علم بخوبی جانتے ہیں ۔آئیے قرآن وسنت کی پاسداری کے ساتھ تسبیح خانہ میں شب برأت گزاریںاور برکات اپنی اور اپنی نسلوں میں منتقل کریں ۔۔۔!
پندرہ شعبان کی رات کوشب برأت اس لیے کہاجاتا ہےکہ شب کے معنی ہیں رات اوربرأت کے معنی بری ہونے کےہیں‘چونکہ اس رات مسلمان توبہ کرکے گناہوں سے بری ہوجاتےہیںاوراللہ تعالیٰ کی رحمت سے بے شمار مسلمان جہنم سے نجات پاتے ہیں، اس لئے اس رات کوشب برأت یالیلتہ المبارکہ بھی کہاجاتاہے۔
تسبیح خانہ میں شب برأت کیسےگزاری جاتی ہے ؟
اس رات مبارکہ میں ان اعمال صالحہ کا خاص اہتمام کرنا چاہیے :
(1) عشاء اور فجر کی نمازیں باجماعت ادا کریں۔
(2) بقدر توفیق نفل نمازیں خاص کر نماز ِتہجد اد ا کریں۔
(3) اگر ممکن ہو تو صلاة التسبیح پڑھیں۔
(4) قرآن پاک کی تلاوت کریں۔
(5) کثرت سے اللہ کا ذکرکریں۔
(6) اللہ تعالیٰ سے خوب دعائیں مانگیں، خاص کر اپنے تمام زندگی کے گناہوں کی مغفرت خوب روروہ کرطلب کریں ۔
(7) اس مبار ک رات میں قبرستا ن جانا اور مسلمان مرد و عورتوں کیلئےایصال ثواب کرنا مستحب ہے ۔
(8)شعبان کی پندرہ تاریخ کا روزہ رکھیں۔
(9)جن گناہوں کی نحوست اس مبارک رات کی بر کت سےمحروم کردیتی ہیں ان سے مکمل پرہیز اور صد ق دل سےتوبہ کریں۔
(بحوالہ ماہ رجب و شعبان ص32 ، نظر ثانی: مفتی نعیم الدین صاحب دامت برکاتہم ،استاد جامعہ مدنیہ کریم پارک لاہور،ناشر:الصبغہ سکول سمن آباد لاہور)
تسبیحـ خانہ اعمال بناتا نہیں بلکہ اعمال بتاتا ہے
