اکابر کے پاس جنات کیسے تعلیم حاصل کرتے تھے؟

قسط نمبر 105
اکابر کے پاس جنات کیسے تعلیم حاصل کرتے تھے؟
اکابر پر اعتماد

موجودہ دور میں جس طرح ماہنامہ عبقری میں جنات کی رہائش، غذا اور تعلیم کا تذکرہ کیا جاتا ہے، اسی طرح ہمارے اکابر واسلاف کے ہاں بھی یہی تذکرے ہوا کرتے تھے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ بھلا جنات کسی کو کیسے نظر آ سکتے ہیں اور علامہ لاہوتی پراسراری دامت برکاتہم کی جنات تک رسائی کیسے ممکن ہے؟ انہی سوالوں کے جواب پانے کیلئے اکابر کی زندگی میں سے درج ذیل چند مثالوں پر غور کریں۔

مولانا حضور بخش چشتی صاحب (مکتبہ بریلویہ) لکھتے ہیں: حضرت ابوالحسن بن کیسان نے فرمایا کہ میں ایک رات سبق یاد کرنے کیلئے جاگتا رہا، پھر سو گیا تو خواب میں جنات کی ایک جماعت دیکھی، جو فقہ، حدیث، حساب، نحو اور شعر و شاعری میں مذاکرہ کر رہی تھی۔ میں نے پوچھا: کیا تم میں بھی علماء ہوتے ہیں؟ انہوں نے کہا: جی ہاں! ہم میں بھی علماء ہوتے ہیں۔ میں نے پوچھا: پھر تم فقہ کے مسائل میں کن علماء کے پاس جاتے ہو؟ انہوں نے کہا: امام سیبویہ کے پاس۔
(تاریخ بغدادی، بحوالہ کتاب: جنوں کی دنیا، ناشر: مکتبہ حنفیہ، گنج بخش روڈ، لاہور)

مؤرخ اہل حدیث ملک عبدالرشید عراقی صاحب لکھتے ہیں کہ حضرت مولانا غلام نبی الربانی سوہدروی کا حلقہ درس بہت وسیع تھا۔ دور دراز سے لوگ آپ کے پاس آ کر اپنی علمی پیاس بجھاتے۔ ایک دفعہ آپ نے اپنے شاگردوں سے فرمایا کہ مسجد کیلئے فلاں جگہ سے شہتیر اٹھا کر لاؤ۔ اگلی صبح دیکھا تو شہتیر مسجد میں پڑا تھا، مگر سبھی شاگردوں نے اس سے لاعلمی کا اظہار کیا۔ البتہ ایک شاگرد نے ادب سے کہا: کہ اس شہتیر کو میں اکیلا ہی اٹھا لایا ہوں۔ حضرت صاحب سمجھ گئے کہ یہ قوم جنات میں سے ہے۔ اسے علیحدگی میں لے جا کر فرمایا کہ اپنی قوم میں جا کر تبلیغ دین کرنا، مگر کبھی کسی کو تنگ نہ کرنا۔
(بحوالہ کتاب: تذکرہ بزرگان علوی سوہدرہ، صفحہ 142، ناشر: مسلم پبلی کیشنز، سوہدرہ)

حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا مہاجر مدنی کے شاگردوں نے کتب خانے کا دروازہ کھولنے کی کوشش کی تو وہ اندر سے بند تھا۔ بہت کوشش کی، مگر دروازہ نہ کھل سکا۔ حضرت شیخ الحدیث کو بتایا گیا تو مسکرا دیے۔ پھر خود دروازے کے پاس جا کر فرمایا: ابے کھول۔ اسی وقت دروازہ کھل گیا۔ اس کے بعد حضرت نے فرمایا: میرے کچھ خدام جنات یہاں کتب خانے میں بھی رہتے ہیں۔
(بحوالہ کتاب: سوانح قطب الاقطاب مولانا محمد زکریا مہاجر مدنی، صفحہ 213، مصنف: مولانا محمد یوسف متالا، ناشر: دار العلوم العربیہ الاسلامیہ، انگلینڈ)

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2025