قارئین! آج کچھ کم عقل اور اپنے اکابر و اسلاف کے طرز زندگی سے لا علم لوگ عبقری میگزین پر اعتراض کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ ایسا خواب ناک جہان ہے، جس میں ہر مسئلے کا حل اور ہر مشکل سے نجات ملتی ہے،
اگر وظائف ہی سے کچھ ملنا ہوتا تو حضور صلی اللہ میدان جنگ میں تشریف نہ لے جاتے۔
حالانکہ محترم قارئین! ایسے لوگوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ حضور سرور کونین ﷺ تو میدان جنگ میں بھی وظیفہ پڑھنے کا ثبوت ملتا ہے۔
اگر وظیفے پڑھنے سے کچھ نہ ملنا ہوتا تو حضور ﷺ میدان جہاد میں حم لا يُنْصَرُوْنَ کا وظیفہ نہ پڑھتے ۔
بحوالہ کتاب: مسند احمد بحوالہ کتاب: برصغیر میں اسلام کے اولین نقوش صفحه 202 ناشر: مکتبہ قدوسیہ اردو بازارلاہور ۔
بحوالہ کتاب مجربات اکابر ص 126 ، ناشر: اداره تالیفات اشرفیہ چوک فواره ملتان پاکستان
خبر دار ! لوگوں کو وظائف بتانے میں کبھی غفلت نہ کرنا:
مولانا عبد القیوم حقانی صاحب ( جامعہ ابوہریرہ نوشہرہ) لکھتے ہیں کہ ایک دفعہ حافظ الحدیث حضرت مولانا عبد اللہ درخواستی رحمتہ اللہ علیہ نے نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: اگر صیح العقیدہ لوگ دم وغیرہ کے سلسلے میں لوگوں کی کفایت نہیں کریں گے تو مجبور لوگ اپنے مقصد کے حصول کیلئے بد عقیدہ ، گمراہ ، شریر اور خواہشات پرست لوگوں کے پاس جا کر اپنا ایمان ، عزت اور مال ضائع کر بیٹھیں گے۔ اس لیے میں تمہیں تاکید کرتا ہوں کہ تم اس سلسلے میں کبھی غفلت نہ برتنا۔ پھر فرمایا: "یا باسط یا حفیظ” کو خود بھی پڑھنا اور لوگوں کو بھی پڑھنے کی تلقین کرنا۔ پھر مزید وضاحت کرتے ہوئے فرمایا : یا باسط پڑھنے سے مال ، اعمال علم ، عزت ، اولاد، دنیا اور آخرت میں کشائش (وسعت) ملے گی اور یاحفیظ پڑھنے سے جان ، مال ، اولاد، عزت ، قبر اور آخرت کی حفاظت ہوگی۔
(بحوالہ کتاب: مرد قلندر صفحه 146 ناشر : القاسم اکیڈمی ، جامعہ ابوہریرہ خالق آباد، نوشہرہ )