عبقری کے تعویذات کو من گھڑت اور افسانہ کہنے والے اس تعویذ کو کیا کہیں گے۔۔۔ عقل کی ترازو میں تولیں گے یا اکابر کی نقل پر اعتماد کریں گے۔۔۔!
امروہہ میں ایک ہندو تھا، وہ حضرت عبدالباری رحمتہ اللہ علیہ سے کمال اعتقاد رکھتا تھا۔ اس نے آپ سے عرض کیا کہ میرے کوئی اولاد نہیں ہے تعویذ دیجئے۔ حضرت نے تعویذ دے کر فرمایا کہ ابھی تو اپنی بیوی کے بازو پر باندھ دو بیٹا پیدا ہونے کے بعد بیٹے کے بازو پر باندھ دینا۔ تعویذ کی برکت سے اس کے لڑکا پیدا ہوا۔ جب وہ لڑکا جوانی کی دہلیز پر پہنچا تو اس نے بغض کی بناء پر اس تعویذ کو کھول ڈالا۔ اس میں لکھا تھا:
’’اُڈری بھنبیری ساون آیا‘‘
یہ پڑھ کر اس نے تعویذ پھینک دیا۔ پھینک کر وہ نہانے کو گیا اور دریا میں ڈوب کر مر گیا۔
(مولانا اشرف علی تھانوی، امداد المشتاق الی اشرف الاخلاق، ص: 118)
یاد رکھیں! شیخ الوظائف دامت برکاتہم عملیات و تعویذات بناتے نہیں بلکہ بتاتے ہیں۔۔۔!
