امام الاولیاء، شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوری رحمۃ اللہ علیہ کے فرزندِ ارجمند حضرت مولانا عبید اللہ انور صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جن اکابر سے میں نے قرآن و حدیث پڑھی ہے، وہ سورۃ فاتحہ کو ہر مرض کیلئے شافی علاج قرار دیا کرتے تھے۔ ہمارے محلے میں ایک ماسٹر صاحب پڑھاتے تھے، ان کا بیٹا سوکھ سوکھ کر کمزوری سے بالکل لاغر ہو گیا۔ ڈاکٹروں نے کہا: اب اس پر مزید پیسے مت خرچ کریں، یہ چند گھنٹوں کا مہمان ہے، آرام سے اس کی جان نکلنے دیجئے۔ ماسٹر صاحب نے اپنی اہلیہ کو بچہ دے کر والدِ محترم حضرت لاہوری رحمۃ اللہ علیہ کے پاس بھیج دیا۔ وہ روتی ہوئی ہماری والدہ مرحومہ کے پاس پہنچی تو اسے دیکھ کر والدہ مرحومہ نے فرمایا: میں روزانہ فجر کی سنتوں اور فرضوں کے درمیان 41 مرتبہ سورۃ فاتحہ پڑھ کے پانی پہ دم کرتی ہوں، تم مسلسل 40 دن تک یہ دم والا پانی اپنے لا علاج بیٹے کو پلا دو۔ اگر اللہ نے اس کی زندگی رکھی ہوئی ہے تو ڈاکٹروں کی باتوں کی کوئی پروا نہیں۔ خدا کی شان دیکھئے کہ کچھ ہی دنوں میں فرق پڑتے پڑتے 40 دن میں بچہ مکمل طور پر صحت مند ہو گیا (وہ ابھی تک زندہ ہے، ایک جگہ دکان کرتا ہے) چالیس دنوں بعد وہ عورت زنانہ کپڑے، پھل اور نوٹوں کا ہار لیے میری والدہ مرحومہ کے پاس آ گئی۔ والدِ محترم حضرت لاہوری رحمۃ اللہ علیہ نے ہدیہ لینے سے انکار کر دیا اور فرمایا: ہم نے تمہیں کوئی دوا نہیں دی، کلامِ اللہ تو انہوں نے پڑھنا ہی ہوتا ہے، ان کے دم میں تاثیر اللہ تعالیٰ نے ہی ڈالی اور تمہارے بچے کو شفاء اسی کلامِ مبارک سے ملی۔ پس تم اللہ کا شکر ادا کرو۔ وہ بے چاری سادہ عورت تھی، کہنے لگی: آج تک تو ہم جہاں بھی گئے، لوگوں نے ہم سے دم کرنے اور تعویذ دینے کے پیسے لیے۔ بہرحال سورۃ فاتحہ کے اس جیسے سینکڑوں واقعات ہیں، جن میں لوگوں کو شفاء ملنے کا بیان ہے۔ آپ کو بھی کبھی کوئی مرض پیش آ جائے تو سورۃ فاتحہ کا یہ عمل ضرور آزمائیں، میری طرف سے سب کو اجازت ہے۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ روزانہ فجر کی سنتیں ادا کر کے 41 مرتبہ سورۃ فاتحہ مع اول آخر 3 بار درود شریف پڑھیں
(ماخوذ از: مجلسِ ذکر، بحوالہ کتاب: پرتاثیر واقعات، صفحہ 42 مصنف: مولانا ابو احمد طہٰ مدنی، ناشر: مکتبہ یادگارِ شیخؒ، اردو بازار لاہور)
نوٹ: قارئین! سورۃ فاتحہ کا یہ عمل حضرت شیخ الوظائف دامت برکاتہم العالیہ سالہا سال سے لوگوں کو عنایت فرما رہے ہیں۔ جو لوگ عبقری کے وظائف پر شک کرتے ہیں، وہ اس بات کا مکمل اطمینان رکھیں کہ عبقری میں کوئی بھی وظیفہ خود نہیں بنایا جاتا بلکہ اپنے اکابر و اسلاف ہی کا آزمودہ عمل بتایا جاتا ہے۔
