ایسا پہلوان ، جس کے ہاتھ کتے جیسے تھے


محترم قارئین! آج کچھ لوگ جنات کے وجود میں شک اور انسانی زندگی پر جنات کے اثرات کا انکار کرنا شروع ہو گئے ہیں۔ حالانکہ ہمارے پیج ” اکابر پر اعتماد” میں ایسے درجنوں اکابرین امت سے ثبوت پیش کیا جا چکا ہے کہ انسانی زندگی میں جہاں دیگر مخلوقات بیکٹیریا، وائرس ، حشرات الارض ، ہوا، پانی ، موسم اور فرشتے وغیرہ) اثر انداز ہوتے ہیں، وہاں جنات کا بھی سو فیصد عمل دخل ہوتا ہے۔ ذیل میں ایک جلیل القدر محدث اور ایک عظیم صحابی رسول صلى الله عليه وسلم کا واقعہ ملاحظہ فرمائیں۔ مولا نا مفتی محمد صاحب میرٹھی نے لکھا ہے: حضرت یزید رقاشی فرماتے ہیں کہ حضرت صفوان مارز نی جب تہجد کیلئے کھڑے ہوتے تو ان کے ساتھ ان کے گھر میں رہنے والے جنات بھی کھڑے ہوتے تھے۔ وہ ان کے ساتھ نماز پڑھتے اور قرآن سنتے ۔ لوگوں نے سوال کیا کہ آپ کو کیسے خبر ہوئی ؟ کہنے لگے کہ ایک دن حضرت صفوان نے ایک شور سنا ، جس سے انہیں گھبراہٹ ہوئی ۔

پس ان کو آواز آئی کہ اے صفوان ! ڈ رومت ، ہم تو تیرے جن بھائی ہیں۔ تیرے ساتھ اٹھ کر تہجد کی نماز پڑھتے ہیں۔ اس کے بعد اس حرکت سے وہ مانوسn ہو گئے اور ان کی گھبراہٹ جاتی رہی ( بحوالہ کتاب: جنات کے حالات و احکام) حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی کسی جن کے ساتھ ملاقات ہوئی تو اس نے کہا: آپ مجھ سے کشتی لڑیں گے؟ چنانچہ آپ رضی اللہ عنہ نے اسے کشتی میں پچھاڑ دیا اور فرمایا: کیا بات ہے کہ میں تمہیں بہت کمزور دیکھتا ہوں اور تمہارے ہاتھ کتے جیسے ہیں۔ کیا تم جنات میں سے ہو؟ جن بولا : ہاں۔۔ لیکن کیا آپ رضی اللہ عنہ آیۃ الکرسی پڑھتے ہیں؟ جو شخص بھی گھر میں داخل ہوتے وقت آیتہ الکرسی پڑھ لے تو شیطان وہاں سے گدھے کی طرح گوز مارتا ہوا بھاگ جاتا ہے.

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2025