ایسی آیت جو جنات کو جلا کر مالدار بنا دے!

مولانا مفتی محمد عاصم عبداللہ صاحب لکھتے ہیں کہ ایک بار کچھ لوگ کشتی پر سوار ہو کر بحری سفر کے لئے روانہ ہوئے۔ ان کی نظر پانی کی سطح پر ایک شخص پر پڑی اور وہ یہ کہتا تھا کہ ایک کلمہ ہے جس کو میں ہزار درہم کے عوض بیچتا ہوں: ان میں سے ایک شخص نے کہا اچھا! لو یہ ہزار درہم ہیں اس پر وہ بولا دریا میں پھینک دو، چنانچہ اس نے ہزار درہم دریا میں پھینک دیے۔ اس وقت اس نے کہا اچھا پڑھو

جب اس نے پڑھا تو وہ بولا اسے خوب یاد کر لو اس کا یاد کرنا تھا کہ ادھر جہاز ٹوٹ گیا اور وہ شخص جس نے یہ آیت یاد کی تھی ایک تختہ پر رہ گیا اور وہ برابر اس آیت کی تلاوت کیے جاتا تھا۔ اسی اثناء میں ایک موج نے اس کو کسی جزیرے میں جا پھینکا، جہاں اس کو ایک نہایت خوبصورت عورت ملی۔ اس سے اس کے حالات دریافت کیے تو اس نے بیان دیا کہ میں فلاں شہر کی رہنے والی ہوں۔ روزانہ سمندر سے ایک جن نکلتا ہے اور وہ مجھے پھسلا یا کرتا ہے لیکن خدا کا کرنا ایسا ہوتا ہے کہ میں اس سے بچ جاتی ہوں۔ اس شخص نے کہا اچھا! تو مجھے ایسی جگہ بتلا دے جہاں سے میں اسے دیکھ لوں اور وہ مجھے نہ دیکھ سکے، اس نے ایسا ہی کیا۔ جب وہ سمندر سے نکلا تو اس شخص نے یہ آیت پڑھنا شروع کر دی اور وہ جن اس آیت کے پڑھنے سے جل کر مر گیا۔

اس کے بعد اس شخص نے اس عورت کو باحفاظت اس کے ہیرے، جواہرات سمیت اس کے گھر پہنچا دیا، بعد میں اس عورت کے والد نے اس کا نکاح اسی شخص سے کر دیا۔

اس لیے علامہ لاہوتی صاحب عبقری میگزین میں جنات کا تذکرہ فرماتے ہیں، جو حق ہے۔

پوسٹ کو شیئر کریں

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026