مولانا نعیم الدین دامت برکاتہم لکھتے ہیں کہ حضرت موسیٰ کاظم سلام الله ورضوانہ علیہ کی وفات کے بعد بھی اللہ جل شانہ نے ان کے مزار کو یہ مقام بخشا کہ بزرگوں کے تجربہ کے مطابق وہاں جو دعا کی جائے، اللہ تعالیٰ اسے قبول فرماتے ہیں ۔ شیخ ابو علی خلال رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ مجھے جب بھی کوئی پریشانی پیش آئی تو میں حضرت موسی بن جعفر سلام الله ورضوانہ علیہ کے مزار پر گیا، اور ان کے توسل سے دُعا کی اللہ تعالیٰ
نے ہمیشہ میرے مقصد کو آسان فرمادیا۔
بغداد کے مغربی حصے رصافہ میں آپ کا مزار مبارک واقع ہے۔ اس مزار کی وجہ سے پورے علاقہ کا نام کاظمیہ ہے ۔ ( تاریخ بغد الخطیب ص : 120 ، ج:1)
حضرت معروف کرخی رحمۃ اللہ علیہ کی وفات 200 ھ میں ہوئی اور یہ بات اہل بغداد میں مشہور تھی کہ ” اللہ تعالیٰ ان کے مزار پر کی ہوئی دُعا قبول فرماتے ہیں۔ خاص طور پر قحط کے زمانے میں بارش کی دعا۔ (الطبقات الكبرى للشعراني ” ص : 61 ، ج:1)
شیخ ابو عبد اللہ بن الحاملی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت معروف کرخی رحمتہ اللہ علیہ کی قبر کے بارے میں ستر (70) سال سے جانتا ہوں کہ جو کوئی غمزدہ وہاں پہنچ کر اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی دعا قبول فرماتے ہیں۔ تاريخ بغد الخطیب ص : 123 جلد 1 ) . (کتاب : بیا مجلس نفیس ص 708 ، ناشر : صفہ ٹرسٹ لاہور )
شیخ یافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں حضرت معروف کرخی رحمۃ اللہ علیہ اجابت دعا کے سلسلہ میں مشہور تھے اور اب بھی یہ بات مشہور ہے کہ ان کی قبر پر دعا قبول ہوتی ہے اور اہل بغداد ان کی قبر کو تریاق مجرب کہتے ہیں۔
(روض الریاحین ، ناشر : ایچ ایم سعید کمپنی کراچی )
