ایسی جگہ جہاں جو مانگیں ملے گا اور ہر مراد پوری ہوگی (انشاء اللہ تعالی )

(مولانا صوفی محمد اجمل طارقی، جہلم، فاضل: جامعہ امدادیہ فیصل آباد)

شیخ الوظائف دامت برکاتہم کئی مرتبہ بہت سے اہلِ اللہ کے مزارات پر تشریف لے گئے ابھی حال ہی میں آپ تاجکستان کے دورہ پر گئے تو اس دورہ نے دنیا بھر میں ایک نیا شعور بیدار کیا اور اللہ کریم کے فضل وکرم سے ہمارے تانے بانے دوبارہ سے ہمارے اکابر و اسلاف سے نہایت مضبوط ہو گئے۔۔۔ شاید اس پرفتن دور میں ہمارے محسن اسلاف سے دنیا بھر کو جوڑنے کی یہ سعادت شیخ الوظائف کے حق میں لکھی ہوئی تھی۔۔۔ اللہ کریم اخلاص کا ذریعہ بنائے اور اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔۔۔ اکابر کے مزارات پر حاضری کے چند حوالہ جات مولانا نعیم الدین صاحب دامت برکاتہم (جامعہ مدنیہ قدیم لاہور کے شیخ الحدیث مکتبہ قاسمیہ اردو بازار لاہور کے مالک) لکھتے ہیں کہ حضرت موسیٰ کاظمؒ کو اللہ تعالیٰ نے وفات کے بعد بھی ان کے مزار کو یہ مقام بخشا کہ بزرگوں کے تجربہ کے مطابق وہاں جو دعا کی جائے، اللہ تعالیٰ اسے قبول فرماتے ہیں۔ شیخ ابو علی خلالؒ کہتے ہیں کہ ”مجھے جب بھی کوئی پریشانی پیش آئی تو میں حضرت موسیٰ بن جعفرؒ کے مزار پر گیا، اور ان کے توسل سے دعا کی اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ میرے مقصد کو آسان فرما دیا،“ (تاریخ بغداد للخطیب ص: 120، ج: 1) بغداد کے مغربی حصے رصافہ میں آپ کا مزار مبارک واقع ہے۔ اس مزار کی وجہ سے پورے علاقہ کا نام ”کاظمیہ“ ہے۔

حضرت معروف کرخیؒ کی وفات 200ھ میں ہوئی اور یہ بات اہلِ بغداد میں مشہور تھی کہ اللہ تعالیٰ ان کے مزار پر کی ہوئی دعا قبول فرماتے ہیں۔ خاص طور پر قحط کے زمانے میں بارش کی دعا (الطبقات الکبریٰ للشعرانی ص: 61، ج: 1)

شیخ ابوعبداللہ بن الحاملیؒ فرماتے ہیں کہ ”میں معروف کرخیؒ کی قبر کے بارے میں ستر سال سے جانتا ہوں کہ جو کوئی غمزدہ وہاں پہنچ کر اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی دعا قبول فرماتے ہیں۔

شیخ یافعیؒ فرماتے ہیں حضرت شیخ معروف کرخی رضی اللہ عنہ اجابتِ دعا کے سلسلہ میں مشہور تھے۔ اور اب بھی یہ بات مشہور ہے کہ ان کی قبر پر دعا قبول ہوتی ہے اور اہلِ بغداد ان کی قبر کو تریاقِ مجرب کہتے ہیں۔

پوسٹ کو شیئر کریں

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026