ایصال ثواب کے ذریعے پتھر دل بھی موم ہوجاتے ہیں

تسبیح خانہ لاہور کے عالمی روحانی پلیٹ فارم کا مقصد خیر خواہی اور بھلائی ہے جس میں مسلم ، غیرمسلم، زندہ ، مردہ ، انسان ،جنا ت حتیٰ کہ جانوروں تک کی خیر خواہی ہے اسی وجہ سے تسبیح خانہ سے ایک عمل جائزمحبت کیلئے اکثر بیان کیا جاتا جس پر سینکڑوں مشاہدات شاہد ہیں وہ یہ کہ جب میاں، بیوی ، یا کسی اور جائز رشتے میں ناچاقی ہوجائے تواس شخص کو نفلی اعمال کا ہدیہ دینا شروع کردیں اس کی برکت سے اس کا پتھر دل موم ہوجائے گا ۔اس پر کم علم رکھنےوالے لوگ کہنے لگے کہ اِیصال ثواب تو صرف مردوں کا کیا جاتا ہے زندوں کو اِیصال تو ہوتا ہی نہیں تو ایسے لوگوںکیلئے ہم نہایت ہی معتمد دارالافتائوں کے فتاویٰ جات پیش کرتے ہیں کہ ایصال ثواب مردوں کے ساتھ زندوں کو بھی کیا جاسکتا ہے ۔

(1)نفلی اعمال کا ثواب جس طرح مردوں کو بخشا جا سکتا ہے، اسی طرح زندوں کو بھی نفلی اعمال کا ثواب بخشا جا سکتا ہے۔ ثواب پہنچانے کے لیے مُردوں کی تخصیص نہیں، لہذا قرآنِ مجید تلاوت کرکے اس کا ثواب زندہ اور مردوں دونوں کو پہنچانا جائز ہے۔ فقط واللہ اعلم

(2)اِیصال ثواب مُردوں کے ساتھ خاص نہیں ہے، بلکہ مُردوں کے ساتھ ساتھ زندہ لوگوں کو بھی نیک عمل کرکے ثواب پہنچایا جاسکتا ہے، عام طور پر مُردوں کے لیے اِیصال ثواب کیا جاتا ہے۔

(3)جو زندہ ہیں اُن کو بھی بلکہ جو مسلمان ابھی پیدا نہیں ہوئے اُن کو بھی پیشگی (ایڈوانس میں)اِیصالِ ثواب کیاجاسکتاہے۔

(4) اگر کوئی شخص اپنی نفل نمازیں، روزے یا حج وعمرہ یا قرآنِ پاک کی تلاوت وغیرہ کا ثواب اپنے مرحوم یا زندہ متعلقین کو پہنچانا چاہے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے ، بس شرط یہ ہے کہ یہ اعمال نفلی ہوں اور ان پر دنیا میں کوئی اجرت نہ لی گئی ہو۔

(5) فقہِ شافعی کی کتابوں میں یہ صراحت بھی ہے کہ اگر ان عبادات کو انجام دے کر آدمی یہ دعا کرلے کہ اللہ تعالیٰ اس کا ثواب فلاں کو پہنچادے ، تو اس اعتبار سے انجام کار اس کا ثواب دوسرے کو پہنچ جائے گا ۔

یادر کھیں تسبیح خانہ اعمال بناتا نہیں بلکہ بتاتا ہے ۔

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2025