ایک بادشاہ نے دوسرے بادشاہ کو کیسے بخشوایا؟

ماہنامہ عبقری میں شائع ہونے والے ہر دلعزیز کالمہ جنات کا پیدائشی دوست میں حضرت علامہ لاہوتی صاحب دامت ر کا تہم کے متعلق کشف القبور کے بچے واقعات پڑھ کر کچھ لوگ کیا، کیوں اور کیسے” کی الجھن میں پڑ جاتے ہیں۔ انہی حباب کے شرح صدر کیلئے چند مثالیں پیش کی جاتی ہیں، کہ کشف القبور کوئی نئی چیز نہیں، جس کا ہمارے اکابر و اسلاف میں وجود ہی نہیں تھا، بلکہ یہ حقائق روحانی دنیا کے شہسواروں میں صدیوں سے چلے آرہے ہیں ۔ اگر کسی کو اپنے اکابر و اسلاف کی باتوں پر یقین نہیں آتا تو خود گناہوں اور مشکوک رزق سے بچنا اور شریعت پر سوفیصد چلنا شروع کر دے۔ ان شاء اللہ کچھ ہی دنوں میں اسے بھی کشف ہونے لگے گا۔ پھر آنکھوں دیکھی حقیقت تو نہیں جھٹلائی جائے گی۔


مولانا غلام رسول مہر ای علیہ لکھتے ہیں : مولانا سید عبدالجبار شاہ ریلی علیہ نے ایک مرتبہ فرمایا کہ مولانا ولایت علی
جونپوری طاری تعلیہ کی وفات کے بعد ایک صاحب مجھے ملنے کیلئے آئے، جنہیں کشف قبور میں مہارت حاصل تھی۔ میں انہیں مجاہدین کے قبرستان میں لے گیا اور مولانا ولایت علی رحیمیہ کی قبر کے پاس بٹھا کر کہا کہ فرمائیے : یہ کون صاحب ہیں اور ان کا حلیہ کیا ہے؟ وہ تقریباً آدھا گھنٹہ مراقب رہے، پھر اٹھے تو مجھے فرمایا کہ آؤ چلیں۔ معلوم ہوتا تھا کہ صاحب قبر نے ان کے دل پر گہرا شر ڈالا۔ راستے میں مجھے بتایا کہ یہ بزرگ سرحد کے نہیں، ہندوستان کے ہیں اور ان کا درجہ بہت اونچا ہے۔ میں نے حلیہ پوچھا تو کہا: رنگ سانولا ہے اور ڈاڑھی کے بال رخساروں پر کم ہیں، تھوڑی پر زیادہ۔ غرض جو حلیہ بتایا، وہ مولانا ولایت علی طایلیہ کے فرزندان رجمند مولانا عبد اللہ اور مولانا عبد الکریم رحمہما اللہ سے خاصا مشابہ تھا۔ لہذا مجھے یقین ہو گیا کہ صاحب کشف کا بیان درست ہے۔
( بحوالہ کتاب : سرگزشت مجاہدین، صفحہ: 344 مصنف : مولانا غلام رسول مہر دلیلی، ناشر: مکتبة الحق، ماڈرن ڈیری ممبئی)

علامہ یوسف بن اسماعیل العمانی ریشی مکتبہ بریلویہ ) لکھتے ہیں : امام یافعی دایملیہ نے فرمایا کہ شہیلہ کے امام ومحدث شیخ احمد حرار شبیلی ریلی علیہ نے مجھے بتایا: جب میں مصر کی مسجدوں میں رات گزارتا تھا تو رات کے وقت جہانہ کے قبرستان میں نکل جاتا۔ اللہ کریم نے میرے سامنے قبر والوں کے احوال کھول دیے تھے۔ میں نعمت والوں کو بھی دیکھتا اور عذاب والوں پر بھی نظر ڈالتا۔ فتح کی طرف قبرستان کا جو حصہ تھا، ان قبر والوں کے حالات بہت اچھے تھے ۔
( بحوالہ کتاب: جامع کرامات اولیاء صفحہ 687 ناشر: ضیاء القرآن پبلی کیشنز ، گنج بخش روڈ ، لاہور )


علامہ وحید الزماں حیدر آبادی دارایی لیہ مکتبہ اہل حدیث) لکھتے ہیں کہ دتی کا بادشاہ بہت گنہگار تھا، جب فوت ہونے لگا تو اس نے وصیت کی کہ مجھے سلطان المشائخ حضرت نظام الدین اولیاء دا اہلیہ کے مزار کے پاس دفن کر دینا۔ چنانچہ اسے وہیں دفن کیا گیا۔ کچھ دن بعد ایک شخص نے خواب میں دیکھا کہ حضرت نظام الدین اولیاء ہی یہ بارگاہ الہی میں گڑ گڑا کر عرض کر رہے ہیں یا اللہ ! یہ بادشاہ میرے پاس اس امید سے آیا ہے کہ تو اسے بخش دے” پس اللہ تعالیٰ نے اس کی مغفرت کر دی۔
(بحوالہ کتاب: تیسیر الباری، ترجمہ صحیح بخاری، ناشر: نعمانی کتب خانہ، اردو بازار، لاہور)

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2025