ایک دن میں دس کتابیں پڑھنا اور سینکڑوں صفحات لکھنا کیسے ممکن ہے؟


ماہنامہ عبقری کے سر پرست حضرت علامہ لاہوتی پراسراری صاحب دامت برکاتہم کے کالم جنات کا پیدائشی دوست” میں یہ بات عام طور پر ملتی ہے کہ وہ کم وقت میں زیادہ کام کر لیتے ہیں، یا چندلمحات میں لمبا فاصلہ طے کر لیتے ہیں۔ ان کے متعلق جولوگ ایسی باتوں کو صرف عقل کے معیار پر تولتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے؟ انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ اولیاء اللہ کی کرامات برحق ہیں ۔ اور کرامت تو کہتے ہی اُسے ہیں ، جو عام انسان کے بس سے باہر اور عقل سے ماوراء ہو ۔ جیسا کہ:

امام ابن قیم علیہ الرحمہ لکھتے ہیں کہ میں نے خود شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ ( مکتبہ اہل حدیث ) کے کاموں میں عجیب و غریب برکت دیکھی ۔ آپ صرف ایک دن میں اتنی زیادہ تحریر کر لیتے تھے، جتنی ایک کا تب پورے ہفتے میں بھی نہیں کر سکتا۔ صرف تحریر و تصنیف میں ہی نہیں ، بلکہ آپ میدان جنگ میں بھی کامل تھے۔ چنانچہ تاتاریوں کے خلاف جہاد میں آپ نے وہ کمالات دکھائے ، کہ بڑے بڑے بہادروں کے منہ کھلے رہ جاتے ہیں

( بحوالہ کتاب: ذکر الہی صفحہ 203 ناشر : دار السلفیہ، حفیظ الدین روڈ بمبئی نمبر 8) حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں کہ امام غزائی کی لکھی ہوئی کتابوں کو اگر ان کی پوری زندگی پر تقسیم کیا جائے ، تو روزانہ سولہ جز کی تصنیف بنتی ہے، جو کسی طرح سمجھ نہیں آتی ۔ اسی طرح امام عبدالوہاب شعرانی نے اپنی کتاب” الیواقیت والجواہر” کے متعلق فرمایا ہے کہ اس کتب کے 300 باب ہیں اور یہ مکمل کتاب کئی ہزار صفحات پر مشتمل ہے۔ اس کے ہر باب کو لکھنے سے پہلے میں نے شیخ اکبر علامہ محی الدین ابن عربی کی کتاب ” فتوحات مکیہ” کا مکمل مطالعہ کیا ہے ۔ یعنی 300 باب لکھنے سے پہلے 300 مرتبہ فتوحات مکیہ کا مطالعہ کیا۔ پھر سب سے حیرت انگیز بات دیکھی کہ میں نے یہ کتاب صرف 30 دن کے اندر لکھی ہے۔ لہذا روزانہ فتوحات مکیہ کا مطالعہ بھی دس دفعہ بنتا ہے اور کتاب کے لکھے جانے والے باب بھی روزانہ دس بنتے ہیں.

مولانا سید محمد ذاکر شاہ چشتی سیالوی ( مکتبہ بریلویہ ) لکھتے ہیں کہ حضرت شیخ بن علی ایک دفعہ محرقہ نامی جگہ میں اپنے شاگرد عبد اللہ بن محمد کے ساتھ تھے۔ شاگرد نے کہا کہ ہم یہاں مغرب کی نماز ادا کر لیتے ہیں، پھر سفر پر روانہ ہو جائیں گے۔ یہ سن کر آپ نے فرمایا کہ ہم تو مغرب کی نماز تریم میں جا کر پڑھیں گے۔ حالانکہ محرقہ اور تریم کا فاصلہ 3 کوس کا تھا اور سورج غروب ہونے سے پہلے وہاں پہنچنا ناممکن تھا۔ چنانچہ آپ کے شاگرد نے کہا: ایسا ہونا تو بہت مشکل ہے۔ آپ نے فرمایا: ذرا اپنی آنکھیں بند کرو۔ اس نے آنکھیں بند کیں تو فرمایا: اب کھول لو۔ جب دیکھا تو وہ تریم میں کھڑے تھے اور سورج ابھی ویسے کا ویسا تھا۔

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2025