Aik Din Mein Das Kitabein Parhna Aur Sainkaron Safhaat Likhna Kaisay Mumkin Hai

ایک دن میں دس کتابیں پڑھنا اور سینکڑوں صفحات لکھنا کیسے ممکن ہے؟

ماہنامہ عِقْرِی کے سَر پَرَسْت حضرت علامہ لاہوتی پراسراری دامت برکاتہم کے کالم ”جنات کا پیدا اَشی دوست“ میں یہ بات عام طور پر ملتی ہے کہ وہ کم وقت میں زیادہ کام کر لیتے ہیں، یا چند لمحات میں لمبا فاصلہ طے کر لیتے ہیں، ان کے متعلق جو لوگ جو لوگ بات عام طور پر سُنتے ہیں وہ کم وقت میں زیادہ کام کر لینے، یا چند لمحَات میں لَمبَا فَاصِلہ طے کر لینے میں ان کے متعلق جو لوگ ایسی باتوں کو صرف عقل کے معیار پر تولتے ہو تو کہتے ہیں کہ یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے؟ انہیں مَعْلُوم ہونا چاہئے کہ اولیاء اللہ کی کرامات بَر حَق ہیں۔ اور کرامت تو کہتے ہی اُسے ہیں، جو عام انسان کے بس سے باہر اور عقل سے ماوراء ہو جیسا کہ:

امام ابن قیم علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں کہ میں نے خود شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ (مکتبہ اہل حدیث) کے کمال میں عجیب وغریب بَرکَت دیکھی۔ آپ صرف ایک دن میں اتنی زیادہ تحریر کر لیتے تھے، جتنی ایک کاتب پورے ہفتے میں بھی نہیں کر سکتا، صِرف تحریر و تصنیف میں ہی نہیں، بلکہ آپ میدان جنگ میں بھی کامل تھے۔ چُنانچہ تاتاریوں کے خِلاف جِہاد میں آپ نے وہ کمالات دکھائے، کہ بڑے سے بڑے بہادروں کے منہ کھلے رہ جاتے ہیں۔

حكيم الامت مولانا اشرف على تھانوی علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں کہ امام غزالی کی لکھی ہوئی کتابوں کو اگر ان کی پوری زندگی پر تقسیم کیا جائے تو روزانہ سولہ جز کی تصنیف بنتی ہے، جو کسی طرح سَمجھ نہیں آتی مگر جب اللہ تعالی آپ پر اپنی وَلائت کی کتاب، ”الیواقیت والجواہر“ کے متعلق فرمایا ہے کہ اس کتاب کے 300 باب ہیں اور مکمل کتاب بھی ہزار صفحات پر مشتمل ہے۔ اس کے ہر باب کو لکھنے سے پہلے میں نے شیخ اکبر علامہ محی الدین ابن عربی کی کتاب ”فتوحاتِ مَكِّیَّہ“ کا مکمل مُطالَعَہ کیا ہے۔ یعنی 300 باب لکھنے سے پہلے 300 مرتبہ فتوحات مَكِّیَّہ کا مُطالَعَہ کیا، یہ سب سے پہلے کی گئی ہے۔ پھر سَب یہ بات دَرج کی گئی کہ یہ کتاب بھی 30 دن کے اندر لکھی گئی ہے۔ لہٰذا روزانہ فتوحاتِ مَكِّیَّہ کا مُطالَعَہ بھی دَس دفعہ ہوتا ہے اور کتاب کے لکھے جانے والے باب بھی روزانہ دَس بَنتے ہیں۔

مولانا سید محمد ذاکر شاہ چشتی سیالوی (مکتبہ بریلویہ) لکھتے ہیں کہ حضرت شیخ بن علی ایک دفعہ محرقہ نامی جگہ میں اپنے شَاگِرد عبداللہ بن محمد کے ساتھ تھے، شَاگِرد نے کہا کہ ہم یہاں مَغرب کی نماز ادا کر لیتے ہیں، پھر سَفَر پہ روانہ ہوجائیں گے۔ یہ سُن کر آپ نے فرمایا کہ تُم مَغرب کی نماز تُم یہیں پر جا کر پڑھیں۔ حالانکہ مَغرب اور تُم کا فَاصِلَہ 3 کوس کا تھا اور سُورج غُروب ہونے سے پہلے وہاں پہنچنا نامُمکن تھا۔ چُنانچہ آپ کے شَاگِرد نے کہا: اَیسا ہونا تو بہت مُشکِل ہے۔ آپ نے فرمایا: ذرا اپنی آنکھیں بند کر و۔ اُس نے آنکھیں بند کیں تو فرمایا: اب کھول لو۔ جب دیکھا تو وہ تُم یہیں کھڑے تھے اور سُورج اَبھی ویسے کا ویسا تھا۔

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2025