ایک چھٹانک دال چاول سے پندرہ آدمیوں کی مہمان نوازی !

مولانا احمد صاحب لکھتے ہیں کہ گرمیوں کے موسم میں پہاڑوں کی طرف کچھ ساتھیوں کے ہمراہ دینی سفر کیلئے جانا ہوا۔ رمضان کا مہینہ تھا، اس لیے مشورے میں طے پایا کہ آٹا چاول وغیرہ نہ خریدیں جہاں جا رہے ہیں وہیں سے خرید لیں گے۔

دو پہر کے وقت ہم اپنی مطلوبہ جگہ ایک پہاڑی پر پہنچے جہاں صرف پانچ مکان اور ایک مسجد تھی ۔ کھانا پکانے کا نظام میرے ذمے تھا، میں نے راشن چیک کیا تو صرف ایک آدمی کیلئے چاول اور تھوڑی سی دال تھی ۔ دُکان کی تلاش کیلئے نکلے تو معلوم ہوا کہ یہاں تو کوئی دکان نہیں راشن اسی پہاڑی سے ملے گا جسے ہم صبح کے وقت پیچھے چھوڑ آئے تھے۔ ہمارا رہبر بھی واپس جا چکا تھا اس لیے ہمارا کہیں آنا جانا ممکن نہیں تھا۔

عصر کے وقت چار لوگ مزید آگئے جنہوں نے رات ہمارے ساتھ ٹھہرنے کا پروگرام بنالیا۔ اب جماعت میں کل پندرہ آدمی تھے جن کی افطاری اور سحری کا انتظام کرنا تھا۔ میں نے پریشان ہو کر اپنے محترم قائد سے مشورہ کیا تو انہوں نے فرمایا: کھانا میں خود پکاؤں گا تم ایک ساتھی کو لے کر قریبی جنگل میں چلے جاؤ۔ وہاں ہمیں کچھ جنگلی شہتوت اور زیتون زمین پر گرے ہوئے ملے ، جو ہم اٹھا کر لے آئے اور افطاری انہی سے کی ۔ اب محترم قائد نے مجھے فرمایا کہ میں جو کچھ بھی کروں ، آپ خاموشی سے دیکھتے جانا۔

یہ کہہ کر انہوں نے پانی سے بھر کر دو بڑے دیگچے چولہوں پر چڑھا دیے۔ ایک میں بس ایک چھٹانک دال چنا اور دوسرے میں قریباً دو چھٹانک چاول ڈال کر کچھ پڑھنا شروع کر دیا۔ جب کھانا تیار ہو گیا تو مغرب کی نماز کے بعد دستر خوان لگایا گیا۔ پندرہ ساتھیوں نے پیٹ بھر کر کھانا کھایا سحری کے وقت بھی امیر صاحب کچھ پڑھ رہے تھے چنانچہ سحری بھی پندرہ ساتھیوں نے پیٹ بھر کر کھائی ۔ فجر کی نماز کے بعد جب میں نے دیگچے کھولے تو ان میں دال اور چاول ابھی تک بچے ہوئے تھے

میری حیرانی کو دیکھتے ہوئے محترم قائد فرمانے لگے :

آج تک کتابوں میں تو آپ نے پڑھا تھا کہ جہاں کھانا کم ہونے کا ڈر ہو سورہ یاسین شریف پڑھو۔

آج آپ سب نے اس عمل کا عملی نمونہ بھی دیکھ لیا۔“

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2025