کچھ لوگ ماہنامہ عبقری میں وظائف کے کمالات پڑھ کر کہتے ہیں کہ کیا ان پر وحی نازل ہونا شروع ہو گئی ہے، جو ہر مسئلے کیلئے آئے دن نت نئے وظائف بتاتے رہتے ہیں۔ محترم قارئین! یہ ایسا افسوس ناک اعتراض ہے، جو بڑھتے بڑھتے تمام اکابر و اسلاف کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ ذیل میں چند مثالیں پیش کی جاتی ہیں، جن میں ماہنامہ عبقری ہی کی طرز پہ ایسے وظائف بتائے گئے ہیں، جن کی نہ تو تعداد قرآن میں ملتی ہے اور نہ ہی پڑھنے کا طریقہ احادیث میں آیا ہے۔
مولانا سید محمد داؤد غزنویؒ (سابق صدر جمیعت اہل حدیث) نے فرمایا: امام ابن تیمیہؒ (مکتبہ اہل حدیث) روزانہ فجر کی نماز کے بعد یہ وظیفہ 40 مرتبہ پڑھا کرتے تھے: يا حي يا قيوم لا اله الا انت برحمتك استغيث اصلح لى شأنى كله ولا تكلنى الى نفسى طرفة عين”
(بحوالہ کتاب: سوانح مولانا داؤد غزنویؒ، صفحہ 210 ناشر: فاران اکیڈمی، قذافی اسٹریٹ، اردو بازار، لاہور)
مولانا صوفی دلاور حسین چشتی (مکتبہ بریلویہ) لکھتے ہیں: حضرت غوثِ پاکؒ نے فرمایا کہ جو شخص اس آیت کو لکھ کر اپنے پاس رکھے اور ہر نماز کے بعد 3 مرتبہ پڑھتا رہے، اللہ تعالیٰ اس پر روزی کے دروازے کھول دیتا ہے: الله لطيف بعباده يرزق من يشاء وهو القوى العزيز۔
(بحوالہ کتاب: تحفۂ قلندری، صفحہ 115 ناشر: جہانگیر بک ڈپو۔ لاہور، ملتان، کراچی)
مولانا سید محمود صندلی مدظلہ لکھتے ہیں: بڑے بڑے امراض سے بچنے کیلئے روزانہ فجر کی سنتوں اور فرضوں کے درمیان تمام حروفِ تہجی (الف سے لے کر ی تک) 41 مرتبہ پڑھیں۔ اور ہر دفعہ الف سے ی تک ایک ہی سانس میں پڑھیں۔ 41 مرتبہ پڑھنے کے بعد اپنے اوپر دم کر لیں
(بحوالہ کتاب: تحفۂ صندلیہ، صفحہ 44 ناشر: مکتبہ ابن مبارکؒ، حق اسٹریٹ، اردو بازار، لاہور)
محترم قارئین! ذرا سوچیں کہ ہر دور کے علمائے کرام اور اولیائے عظام رحمہم اللہ نے لوگوں کو چھوٹے بڑے تمام مسائل کیلئے پُرتاثیر وظائف دیے، جو آج تک کتابی ریکارڈ میں محفوظ ہیں۔ کیا ان کے متعلق آج کوئی شخص یہ کہنے کی جسارت کر سکتا ہے کہ ان تمام علماء و اولیاء پر وحی نازل ہوتی تھی؟
