باتھ روم کے جنّات عورت کو اٹھا کر لے گئے

ماہنامہ عبقری میں شائع ہونے والے ہر دلعزیز کالم "جنات کا پیدائشی دوست” میں حضرت علامہ لاہوتی صاحب دامت برکاتہم نے ایک دفعہ بیت الخلاء میں داخل ہونے سے پہلے پڑھی جانے والی مسنون دعا کو تفصیل سے بیان فرمایا اور کہا کہ اگر یہ دعا نہ پڑھی جائے تو جنات انسان کو طرح طرح کے نقصان پہنچاتے اور بیماریاں لگاتے ہیں۔ کچھ لوگوں نے اس بات کو اپنی عقل کے مطابق پرکھا اور فوراً انکار کر دیا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ آئیں دیکھتے ہیں کہ ہمارے اکابر و اسلاف میں اس بات کی کیا حقیقت ہے؟

حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ (جو اپنے وقت کے "علامہ لاہوتی پُراسراری” تھے) ان کے پاس ایک شخص آ کر بولا: مولانا صاحب! میرے اور میری بیوی کے درمیان شدید محبت ہے، کل رات اسے پیشاب کی حاجت ہوئی، اور وہ بیت الخلاء میں گئی تو کافی دیر تک واپس نہ لوٹی۔ اسی دوران مجھے بیت الخلاء کے اندر سے آواز سنائی دی ”ارے چھجو! اسے لے جاؤ“ میں نے جب اندر دیکھا تو میری بیوی غائب تھی۔ اس وقت سے میں تڑپ رہا ہوں، براہِ کرم میری بیوی کو واپس لانے کی کوئی تدبیر فرمائیے! شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا : رات کو فلاں مقام پر ایک بزرگ آئیں گے، ان کو میرا رقعہ دے دینا۔ وہ شخص ان بزرگ کے پاس گیا اور رقعہ دیا تو انہوں نے زمین پر چند لکیریں کھینچیں اور فرمایا: ان لکیروں میں تمہیں عجیب و غریب خلقت نظر آئے گی، مگر تم مت گھبرانا اور یہ ٹھیکری اسے دکھا دینا۔ اس نے غور سے دیکھا تو وہاں عجیب مخلوق کے درمیان ایک تخت نشین بادشاہ بیٹھا ہوا تھا، جس نے ٹھیکری دیکھتے ہی بہت خوشی سے کہا: کہ آپ کا شکریہ جو آپ کے ذریعے شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ کا پیغام مجھے ملا، پھر حکم دیا کہ فلاں فلاں جنّ کو حاضر کیا جائے۔ آخر چھجو نام کا ایک جنّ اس کے سامنے حاضر ہوا اور کہنے لگا: حضور! میں تو فلاں علاقے کی طرف اڑتا جا رہا تھا، مجھے فلاں جنّ کی طرف سے اس عورت کو اٹھا لینے کا حکم ملا، میں اس عورت کو لے گیا، مگر وہ میری ماں کے برابر ہے، میں نے اس کے ساتھ کوئی ناروا سلوک نہیں کیا۔ آخر کار عورت کو اس کے شوہر کے سپرد کر دیا گیا اور ہدیے کے طور پر بہت سارا مال بھی دیا گیا۔

(بحوالہ کتاب: کمالاتِ عزیزی، صفحہ 36 مصنف: سید احمد صاحب دہلوی، ناشر: مکتبہ رحمانیہ، اردو بازار لاہور)

قارئین! آپ کا کیا خیال ہے کہ مفسرِ قرآن حضرت مولانا شاہ رفیع الدین دہلویؒ کے پوتے سید احمد صاحب دہلویؒ کے لکھے ہوئے اور شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ کے ساتھ بیتے ہوئے اس واقعے کو بھی عمران سیریز کا قصہ کہا جا سکتا ہے؟ کیا یہ بھی ایک من گھڑت کہانی ہے؟؟؟

پوسٹ کو شیئر کریں

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026