محترم قارئین! حضرت شیخ الوظائف دامت برکاتہم العالیہ عبقری میگزین اور تسبیح خانے میں شبِ جمعہ کو ہونے والے درس کے ذریعے سالہا سال سے اس بات پر روشنی ڈال رہے ہیں کہ بارش کے دوران دعائیں قبول ہوتی ہیں، لہذا اس وقت کو قیمتی بنائیں اور اللہ پاک جل شانہ سے اپنی فیملی اور نسلوں کیلئے رزق، دولت، عزت، صحت، برکت، عافیت، کفالت، حمایت، نصرت اور قدم قدم پر حفاظت کے فیصلے کروائیں۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ حضرت شیخ الوظائف دامت برکاتہم العالیہ کے بتائے جانے والے اس عمل کے احادیثِ مبارکہ میں کیا دلائل ہیں؟ فضیلۃ الشیخ محمد صالح المنجد (مکتبہ الحدیث) فرماتے ہیں کہ: بارش نازل ہونے کا وقت دراصل لوگوں پر فضلِ الٰہی اور رحمتِ الٰہی نازل ہونے کا وقت ہے۔ اس دوران خیر و بھلائی کے اسباب بڑھ جایا کرتے ہیں۔ اس لیے بارش نازل ہونے کا وقت دعائیں قبول کروانے کی گھڑی ہے۔ چنانچہ حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً منقول ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: دو قسم کی دعائیں رد نہیں ہوتیں: اذان کے وقت کی دعا اور بارش کے دوران مانگی جانے والی دعا۔
(بحوالہ: مستدرک حاکم 2534، المعجم الکبیر للطبرانی 5756، صحیح الجامع للالبانی 3078) محدثِ کبیر علامہ ناصر الدین البانیؒ لکھتے ہیں: امام مکحول رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: دعا کی قبولیت کو ان تین موقعوں پر تلاش کرو (1) جہاد کے موقع پر، جب فوجیں باہم ملتی ہیں (2) اقامتِ نماز کے وقت (3) اور بارش نازل ہونے کے وقت (بحوالہ: صحیح الجامع 1026) اسی طرح فضیلۃ الشیخ ابو محمد حافظ عبدالستار الحماد حفظہ اللہ نے بھی بارش کے دوران دعاؤں کی قبولیت کو یقینی قرار دیا ہے اور اس کی دلیل میں ترمذی شریف کی حدیث 3259 سے سند پیش کی ہے۔
(بحوالہ: مجلس التحقیق الاسلامی، فتاویٰ اصحاب الحدیث، جلد 2 صفحہ 182 ناشر: مکتبہ اسلامیہ، اردو بازار لاہور)
فتنوں سے بچنے اور اکابرینِ امت کیساتھ جڑنے کرنے کیلئے ”اکابر پر اعتماد“ کی پوسٹیں زیادہ سے زیادہ لوگوں میں پھیلائیں۔
