( مولانا محمد نواز صاحب، فاضل جامعہ مظاہر العلوم، لاہور )
شیخ الحدیث مولانا محمد ذکریا نے ارشاد فرمایا: اکابر کے لیے ایصال ثواب ضرور کیا کرو، اس سے ان کی ارواح متوجہ ہوتی ہیں اور ان کے فیوض و برکات ملتے ہیں۔ حاجی عبد الرحمن صاحب نو مسلم میرے تایا ابا کے زمانے میں اسلام لائے تھے ان کی بہت سی خصوصیات ہیں ( جو سوانح محمد الیاس میں مذکور ہیں ) ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک خاص بات عطا فرمائی تھی کہ ان کے ذریعہ بہت سے آدمی اسلام لائے۔ ایک مرتبہ دلی میں ایک تانگہ والے کے پاس گئے اس نے کہا کہ میری گاڑی میں جگہ نہیں ہے۔ بہر حال بہت جھگڑے کے بعد تانگہ والے نے بٹھا یا۔ اللہ کی شان دلی سے نظام الدین پہنچے کہ وہ مسلمان ہو گیا۔ انہوں نے میرے چچا جان کے انتقال پر ایک معمول یہ بنایا تھا کہ سورۃ یسین پڑھ کر اور دو رکعت نفل پڑھ کر ایصال ثواب کیا کرتے تھے۔ ایک روز خواب میں دیکھا کہ چچا جان نے فرمایا کہ ”میرے اکابر کو چھوڑ دیتے ہو مجھے اس سے شرم آتی ہے کہ مجھے آپ ثواب پہنچاؤ اور دوسرے مشائخ کو نہ پہنچاؤ ، ان کو بھی بخشا کرو۔۔۔! بہر حال اکابر کے لیے ایصال ثواب کا خصوصی اہتمام کرنا چاہیے تا کہ ان کے سامنے سرخروئی ہو سکے۔
(کتاب: ملفوظات شیخ الحدیث ،ص 281، ترتیب: مولانا ڈاکٹر محمد اسماعیل میمن مدنی مدظله، ناشر: مکتبہ لدھیانوی)
محترم قارئین! آج اللہ کریم کے فضل سے تسبیح خانہ کی ایک ایک بات اسلاف وا کا بڑ سے جڑی ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اکابر پر اپنا اعتماد بڑھائیں.
