محترم قارئین! پہلے دور کے تمام اولیاء صالحین پیسے رکھنے کیلئے تھیلی استعمال فرمایا کرتے تھے اللہ پاک جل شانہ نے یہ سعادت بھی حضرت شیخ الوظائف دامت برکاتہم العالیہ کو عطا فرمائی، جن کی پر خلوص محنت سے عبقری تسبیح خانے کے ذریعے ہزاروں لوگوں کو اولیاء صالحین کی طرح تھیلی استعمال کرنے کی عادت پڑ گئی۔ اس کے بے شمار فوائد میں ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ 129 مرتبہ سورۃ کوثر کے دم والی تھیلی سے پیسے بھی چوری نہیں ہوتے ۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ برکت والی تھیلی صحابہ کرام کے دور میں کس طرح استعمال کی جاتی تھی؟ مولا نا ہارون معاویہ صاحب لکھتے ہیں کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو اپنی فاقہ کشی دور کرنے کی ایک عجیب ترکیب سوجھی۔
انہوں نے کچھ کھجوریں لیں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں جاکر عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں برکت کی دعا فرما دیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کھجوروں کو اکٹھا کیا اور ان میں برکت کی دعا کر کے فرمایا: انہیں اپنے تو شہ دان میں رکھ لو اور جب کبھی ضرورت ہو، اندر ہاتھ ڈال کر نکال لیا کرو، اس توشہ دان کو نہ کبھی الٹنا، نہ ہی جھاڑنا۔ چنانچہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے ان کھجوروں کو ایک تھیلی میں رکھ لیا۔ جب ضرورت ہوتی، ان میں سے خود بھی کھاتے اور دوسروں کو بھی کھلاتے ۔ اس طرح انہوں نے بیسیوں من کھجوریں اندر سے نکال نکال کر فاقہ کش مسکینوں میں تقسیم فرمائیں۔ آپ اس تھیلی کو قیمتی سرمایہ سمجھتے ہوئے نہایت احتیاط سے اپنے پاس رکھتے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے 26 سال بعد جب حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت ہوئی ، اس دن وہ تھیلی بھی گم ہو گئی۔ لہذا اس دن کے بعد ان کی برکت والی کھجوریں نکلنا بھی ختم ہو گئیں۔
سیرت کبری جلد 2 صفحہ 831 بحوالہ سنن ترمذی، بحوالہ کتاب: کتابوں کی لائبریری میں صفحہ 118 ناشر : مکتبہ بیت العلوم ، نابھہ روڈ، انار کلی بازار لاہور
