بچے کے پیشاب سے بچھو کے کاٹے کا علاج

قارئین ! کچھ لوگ کہتے ہیں کہ عبقری میگزین میں ایسے ٹوٹکے اور ایسے وظیفے دیے جاتے ہیں ، جن کا قرآن و حدیث میں ثبوت نہیں ملتا، حالانکہ اگر ذراسی عقلمندی سے کام لیا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ چاہے کوئی ٹوٹکہ ہو یا وظیفہ ۔۔۔ عبقری میں اسے خود ساختہ بنایا نہیں جاتا، بلکہ صرف بتایا جاتا ہے۔

جیسا کہ مفتی اعظم پاکستان حضرت مفتی محمد تقی عثمانی صاحب مدظلہ لکھتے ہیں کہ : جب ہم نے اپنی رہائش دار العلوم کراچی میں منتقل کی تو اس وقت دونوں بلاکوں کے درمیان تقریباً سو گز کا فاصلہ تھا جو تمام تر ریت کے ٹیلوں اور جھاڑیوں سے بھرا ہوا تھا۔ ان ٹیلوں میں سانپ ، بچھو، گرگٹ، گوہ، سانڈے، سیہہ اور نہ جانے مزید کتنی قسم کے حشرات الارض رہتے تھے، جو دن کے وقت تو ہم سے ڈرتے تھے مگر رات ہوتے ہی ہم ان سے ڈرا کرتے۔ خاص طور پر عشاء کی نماز کے وقت کسی نہ کسی طالب علم کے پاؤں پر بچھو ضرور کا ٹتا اور بچے کے چیخنے کی آواز آتی ۔ اس وقت آس پاس نہ تو کوئی ڈاکٹر تھا ، نہ ہسپتال ۔ لہذا علاج کے مختلف دیسی طریقے آزمائے جاتے (قارئین ! اب ذرا غور کیجئے گا کہ اس زمانے میں ہمارے اکابر کے آزمائے ہوئے ٹوٹکے آج عبقری میگزین لوگوں کو بتا رہا ہے، چنانچہ مفتی محمد تقی عثمانی صاحب مدظلہ لکھتے ہیں ) کسی نے بتایا کہ اگر بچھو کو مار کے تیل میں ڈال دیا جائے تو اس تیل سے بچھو کے ڈسنے کا علاج ہو جاتا ہے۔ چنانچہ یہ علاج کئی طلبہ پر آزمایا گیا اور کچھ مفید بھی ثابت ہوا۔ لیکن آخر میں جو علاج سب سے زیادہ مقبول ہوا، وہ یہ تھا کہ جس جگہ بچھونے کاٹا ہو، اس جگہ کسی بچے سے دھار کے ساتھ پیشاب کروایا جائے۔ چنانچہ جو نہی کسی کو بچھو کاٹتا ، تو کسی بچے کو پکڑ کر اسے پیشاب کرنے پر مجبور کیا جاتا تھا (بحوالہ: ماہنامہ البلاغ مارچ 2019ء صفحہ 19 ناشر : جامعہ دار العلوم کراچی )
لہذا اب فیصلہ آپ نے کرنا ہے کہ کیا عبقری خود ساختہ ٹوٹکے اور وظائف بتا رہا ہے۔ یا لوگوں کو اکابر کی آزمودہ ترتیب پر لا رہا ہے؟

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2025