مفتی اعظم پاکستان حضرت مفتی محمد تقی عثمانی صاحب مدظلہ لکھتے ہیں: ”جب ہم نے اپنی رہائش دارالعلوم کراچی میں منتقل کی تو اس وقت دونوں بلاکوں کے درمیان تقریباً سو گز کا فاصلہ تھا جو تمام تر ریت کے ٹیلوں اور جھاڑیوں سے بھرا ہوا تھا۔ یہ ریت کے ٹیلے اور جھاڑیاں سانپ، بچھو کے علاوہ گرگٹ، گوہ، سانڈے، سیہہ اور نجانے کتنی قسموں کے حشرات الارض کا مسکن تھے جو دن کے وقت تو ہم سے ڈرتے تھے مگر رات ہوتے ہی ہم ان سے ڈرا کرتے۔ کیونکہ یہ ہی ان کی سیر و تفریح کا وقت ہوتا تھا اور خاص طور پر بچھو عشاء کی نماز کے وقت آزادی سے گھومتے اور شاید دن بھر کا بدلہ لینے کا بہترین موقع جان کر کسی نہ کسی کے پاؤں پر ڈس لیا کرتے تھے۔ عشاء کی نماز کے بعد بکثرت کسی نہ کسی طالب علم کے چیخنے کی آواز آتی اور معلوم ہوتا کہ اسے کسی بچھو نے کاٹ لیا ہے، آس پاس نہ کوئی ڈاکٹر تھا نہ کوئی ہسپتال، لہٰذا علاج کے مختلف دیسی طریقے آزمائے جاتے تھے، کسی نے بتایا کہ اگر کوئی بچھو مار کر اسے تیل میں ڈال دیا جائے تو اس تیل سے بچھو کے ڈسنے کا علاج ہو جاتا ہے۔ چنانچہ یہ علاج کئی طلبہ پر آزمایا گیا اور کچھ مفید بھی ثابت ہوا۔ آخر میں جو علاج سب سے زیادہ مقبول ہوا وہ یہ تھا کہ جس جگہ بچھو نے کاٹا تھا اس جگہ کسی بچے سے دھار کے ساتھ پیشاب کروا دیا جائے۔ چنانچہ جب کسی کو بچھو کاٹتا تو کسی بچے کو پکڑ کر اسے پیشاب کرنے پر مجبور کیا جاتا تھا۔“
(بحوالہ: ماہنامہ البلاغ مارچ 2019ء، مضمون: یادیں، قسط 16، صفحہ 19 ناشر: جامعہ دارالعلوم کراچی)
حلال حرام، جائز ناجائز اور شریعت ہم سے زیادہ ہمارے بڑے جانتے ہیں۔
