تبرکات رکھنے سے کیا ہوتا ہے؟ ان کی کوئی حقیقت بھی ہے؟

بزرگانِ دین کے تبرکات سے فیض حاصل کرنے پر مولانا سید محمد حسن صاحب رحمۃ اللہ علیہ (سابق مدرس: دارالعلوم) نے باقاعدہ ایک کتاب لکھی، جس پر شیخ الادب حضرت مولانا اعزاز علی صاحبؒ اور مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا محمد شفیع صاحبؒ جیسی عظیم ہستیوں نے تقاریظ ثبت کیں اور اس کتاب کا نام خود حکیم الامت نے ”وھب النسیم علی نفحات الصلوة والتسلیم“ رکھا۔ اس کتاب کے صفحہ نمبر 33 پر حضور ﷺ کے تبرکات سے فیض پانے کا واقعہ لکھا ہوا ہے کہ بلخ کا رہنے والا ایک تاجر بڑا دولت مند تھا اور دنیاوی مال و دولت کے علاوہ اس کے پاس حضور سرورِ کونین ﷺ کا بال مبارک بھی تھا۔ تاجر فوت ہو گیا، صرف دو ہی اس کے بیٹے تھے۔ بڑے بیٹے نے کہا کہ اس کے دو ٹکڑے کر دیتے ہیں آدھا تم لے لو اور آدھا میں، چھوٹے نے کہا: میں تو سرکار علیہ السلام کے موئے مبارک کے ٹکڑے ہرگز نہیں ہونے دوں گا۔ بڑے نے کہا: اگر تمہیں موئے مبارک سے اتنی محبت ہے تو اپنے پاس رکھ لو اور ساری دولتِ دنیا مجھے دے دو۔ چھوٹے نے یہ بات خوشی خوشی منظور کر لی اور اپنا سارا حصہ اس کو دے دیا۔ اب وہ روزانہ بال مبارک کی زیارت بھی کرتا اور کثرت سے درود و سلام بھی پڑھتا۔ قدرتِ خداوندی سے بڑے بھائی کا مال گھٹنا شروع ہو گیا اور چھوٹے بھائی کے مال و عظمت میں دن بہ دن اضافہ ہونا شروع ہو گیا۔ ایک وقت آیا کہ چھوٹے بھائی کا رزق اتنا بڑھا کہ اس کا لنگر جاری ہو گیا اور بڑے بھائی پر اتنا زوال آیا کہ وہ چھوٹے بھائی کے لنگر خانے سے دو وقت کی روٹی لینے آتا۔

اسی طرح تبرکات سے فیض حاصل ہونے کے متعلق امام بیہقیؒ نے لکھا ہے کہ بادشاہ ہرقل کو سر درد رہتا تھا۔ کئی علاج کیے مگر شفاء نہ ہوئی، خوش قسمتی سے اس کو حضور علیہ السلام کا ایک بال مبارک مل گیا۔ اس نے ٹوپی میں سی کر ٹوپی پہنی تو درد فوراً ختم ہو گیا۔

حلال، حرام، جائز، ناجائز اور شریعت ہم سے زیادہ ہمارے بڑے جانتے تھے!

پوسٹ کو شیئر کریں

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026