تسبیح خانہ میں سیدہ نفیسہ طاہرہ کی نذر ماننے سے کام تو بن گیا لیکن کہیں ہم شرک و بدعت میں مبتلاء تو نہیں ہو گئے

محترم قارئین! اکابر و اسلاف کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے حضرت شیخ الوظائف دامت بر کاتہم العالیہ نے گزشتہ سال عبقری تسبیح خانے میں آل رسول کی ایک بزرگ خاتون حضرت سیدہ نفیسہ طاہرہ رحمتہ اللہ علیہا کے فضائل و مناقب بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ جو شخص ندرمان لے کہ یا اللہ ! میرا فلاں مسئلہ حل ہو جائے تو میں سیدہ نفیسہ طاہرہ رحمۃ اللہ علیہا کی طرف سے اتنے روپے خیرات کروں گا یا فلاں فلاں نفلی اعمال کا بد یہ ان کی روح مبارکہ کو ایصال ثواب کروں گا تو اس شخص کے ناممکن کام بھی ممکن ہو جاتے ہیں۔ آئیے دیکھتے ہیںکہ کیا یہ عمل غیر شرعی شرک و بدعت ہے یا قرآن وسنت اور اکابرین امت کی تعلیمات کے عین مطابق ہمارا وہ بھولا ہوا سبق، جسے حضرت شیخ الوظائف دامت برکاتہم العالیہ نے دوبارہ یاد کروادیا۔

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2025