تسبیح خانہ میں کیے جانے والے اعمال پر آخرت میں کیا ملے گا۔۔۔!

( قاری محمد یوسف، مری بھوربن )

زندگی مال سے نہیں اعمال سے بنتی ہے آج اس پیغام کو اللہ کے فضل آج تسبیح خانہ نے سارے عالم میں پہنچانے کی کوشش کی ہے جس کے ذریعے لاکھوں لوگ گناہوں سے تو بہ کر کے اپنے رب سے جڑ گئے ہیں ۔۔۔۔! ان اعمال پر ہمیں آخرت میں کیا کچھ اللہ کریم کے فضل سے ملنے والا ہے ایک سچا واقعہ ملاحظہ فرمائیں۔ ہمیں عبد اللہ نے محمد بن الحسین، عیسی بن سالم، ابوالمسیح الرقی حسن بن دینار، ثابت بنانی کی سند سے نقل کیا ہے کہ وہ اور ایک دوسرا شخص (راوی دونوں ہیں ) مطرف بن عبد اللہ بن شیخیر کی عیادت کرنے گئے۔ ہم نے دیکھا کہ وہ بے ہوش ہیں اور ان کے جسم پر نور کے تین ٹکڑے صاف نظر آ رہے ہیں، ایک سر سے، دوسرا ناف سے اور تیسرا پاؤں سے اوپر کی طرف نکلا ہوا تھا، دیکھ کر خوفزدہ ہو گئے ، جب ان کو ہوش آیا تو ہم نے ان سے کہا کہ اے ابو عبد اللہ ! کیا حال ہے؟ ہمیں ایک عجیب چیز نظر آئی جس سے ہم خوف زدہ ہو گئے۔ انہوں نے پوچھا کہ آپ نے کیا دیکھا؟ ہم نے انوارات کا واقعہ سنا دیا۔ انہوں نے پوچھا کہ کیا واقعی آپ نے ایسا دیکھا : ہم نے کہا جی ہاں بالکل، تو انہوں نے کہا دراصل یہ سورہ سجدہ ہے اس میں انتیس (۲۹) آیتیں ہیں اس کا پہلا حصہ میرے سر سے، دوسرا حصہ میری ناف سے اور تیسرا حصہ میرے پاؤں سے چمکا اور اب وہ میری سفارش کے لیے آسمان میں چڑھ گئی ہے اور سورہ ملک ہر شر سے بچانے کے لیے میرے اوپر پہرہ دے رہی ہے، یہ کہتے ہی ان کی آنکھیں بند ہوگئیں اور ان کا انتقال ہو گیا۔ کتاب :

تسبیح خانہ اور اسکی تمام شاخوں میں اللہ کریم کے فضل و کرم سے سالہا سال سے یہ دونوں سورتیں عشاء کی نماز کے بعد پڑھنے کا معمول ہے ۔ آپ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں کہ جو ان کا اہتمام کرتا ہے اسے آخرت میں کیا ملے گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ-

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2025