اللہ رب العزت کے فضل و کرم سے جب سے تسبیح خانہ کی خانقاہ بنی ہے اس وقت سے لے کر آج تک ہفتہ وار درس کے بعد ختم خواجگان کے ساتھ اسماء البدریین پڑھنے کا معمول ہے۔ اس عمل کی مجھے کئی مشائخ اور بزرگان سے اجازت بھی حاصل ہے۔ بڑے بڑے اکابر کی زندگی میں یہ عمل موجود رہا ہے، وہ خود بھی پڑھتے تھے اپنے تعلق والے افراد کو پڑھنے کی تلقین بھی کرتے تھے۔
(1) شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریاؒ و دیگر اکابرین کا مجرب عمل ہے کہ اہل بدر کے وسیلہ سے جو دعائیں مانگی جائیں وہ قبول ہوتی ہیں۔ (اسماء البدریین سے پریشانیوں کا حل)
(2) مفتی اعظم پاکستان مفتی شفیع صاحبؒ فرماتے ہیں کہ غزوہ بدر کو اللہ تعالیٰ نے خصوصی شرف بخشا ہے، اس میں شریک ہونے والوں کے مخصوص فضائل ہیں جو دوسروں کو حاصل نہیں۔ شرکائے بدر کی مقدس ہستیوں کا اللہ تعالیٰ کے نزدیک کیا مقام ہے اس کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ ان حضرات کے نام پڑھ کر جو دعا کی جائے قبول ہوتی ہے۔ علماء و صلحاء میں زمانہ دراز سے مصائب، حوادث امراض و آفات سے نجات حاصل کرنے کیلئے (اسمائے بدریین کا پڑھنا) مجرب مانا گیا ہے۔ (اسماء البدریین، ناشر حاجی حافظ فرید الدین احمد)
(3) برصغیر میں حدیث کی خدمت میں نمایاں مقام حاصل کرنے والے اور بخاری شریف کا حاشیہ لکھنے والی شخصیت محدث کبیر حضرت مولانا احمد علی سہارنپوری قدس سرہ نے بخاری شریف کے حاشیے پر لمعات شرح مشکوٰۃ شیخ عبدالحق محدث دہلوی کے حوالے سے تحریر فرمایا ہے کہ اسمائے بدریین کا ذکر کرنے کے بعد دعا قبول ہوتی ہے۔ (بخاری شریف ج 2 ص 574 ناشر: قدیمی کتب خانہ کراچی)
(4) شیخ الحدیث مولانا سلیم اللہ خان صاحبؒ (صدر وفاق المدارس) کے نام سے اہل علم بخوبی واقف ہیں اتنی بڑی علمی شخصیت جب بھی بخاری شریف پڑھاتے اور اس میں اصحاب بدریین کے نام آتے تو آپ یہ بات ضرور ہی ارشاد فرماتے کہ ان ناموں کی برکت سے جب جو دعا کی جاتی ہے وہ ضرور قبول ہوتی ہے۔ کشف الباری میں بھی یہ بات لکھی ہے۔ (کشف الباری، کتاب المغازی)
(5) فقیہہ العصر حضرت مولانا مفتی عبدالستار صاحب مدظلہ فرماتے ہیں کہ اسماء البدریین کو پڑھنے سے حضرات صحابہؓ کی محبت و عظمت سے قلوب لبریز ہوں گے اور اتباع سنت کا جذبہ پیدا ہو کر حصول رضائے الہی کا ذریعہ بنے گا۔ (کتاب روشن ستارے)
(6) حضرت مولانا محمد اسحاق ملتانی صاحب مدیر ماہنامہ محاسن اسلام ملتان فرماتے ہیں کہ اصحاب بدر کے نام پڑھنے کی برکت سے بھی دعا کی قبولیت میں تاثیر مشائخ کرام سے منقول چلی آرہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بخاری شریف میں ان حضرات کے جو چند نام درج ہیں ان کی تلاوت کے بعد اکثر اجتماعی دعا کی جاتی ہے۔ ہر مشکل گھڑی میں ان ناموں کو پڑھ کر دعا کی جائے تو امید قوی ہے کہ اللہ پاک ضرور دعا قبول فرمائیں گے۔ (ایضاً)
(7) استاد الحدیث جامعہ اشرفیہ مولانا محمد کفیل خان صاحب فرماتے ہیں اصحاب بدرؓ کے اسمائے گرامی پڑھنے کی برکات صدیوں سے مجرب اور آزمودہ ہیں۔ اسمائے بدریین جیسے مقدس ناموں کی ایسی برکت ہے کہ اللہ کو اپنے ان پیاروں کی ایسی لاج آتی ہے کہ ان حضرات کے نام لے کر جو بھی جائز دعا کی جائے اللہ تعالیٰ ضرور قبول فرماتے ہیں اور بندے کو خالی نہیں لوٹاتے۔ (فضائل و برکات اسماء البدریین) علماء و مشائخ اور اکابرین میں عرصہ دراز سے مصائب، حوادث، امراض، وباء اور آفات سے نجات حاصل کرنے کیلئے اسماء البدریین کا پڑھنا انتہائی مجرب مانا گیا ہے اور جب بھی ایمان و عقیدے سے پڑھا گیا تو پڑھنے والا خالی نہیں لوٹا۔ (ایضاً)
(8) استاذ العلماء مولانا محمد اکرم کاشمیری صاحب استاد الحدیث جامعہ اشرفیہ مدیر ماہنامہ ’’الحسن‘‘ لاہور فرماتے ہیں اسماء بدریین پڑھ کر جو دعا کی جائے وہ اللہ کی بارگاہ میں قبول ہوتی ہے۔ اکابرین امت کا یہی معمول رہا ہے کہ وہ مصائب اور پریشانیوں میں ان اسماء کا ورد کر کے دعائیں کیا کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ اسماء بدریین کا ذکر نہ صرف یہ کہ موجب برکت و سعادت ہے بلکہ ان کے ذکر کے بعد دعا بھی قبول ہوتی ہے۔ (ایضاً)
(9) شیخ الحدیث جامعہ اشرفیہ لاہور حضرت مولانا محمد یوسف خان صاحب مدظلہ محدثین کرام اور مشائخ عظام کا تجربہ نقل فرماتے ہیں کہ ہم نے مشائخ حدیث سے سنا ہے کہ صحیح بخاری میں اسمائے بدریین کے ذکر کے وقت دعا قبول ہوتی ہے اور بارہا اس کا تجربہ ہو چکا ہے۔ (زرقانی، جلد 1 صفحہ 409)۔ نیز بارگاہ الہی میں نیک بندوں اور ان کے اعمال کے ذریعہ دعا کرنے کی کیفیت اور دعا کی قبولیت اس روایت سے بھی واضح ہے جو صحیح بخاری جلد 2 صفحہ 1883 اور صحیح مسلم جلد 2 صفحہ 353 میں غار میں جانے والے تین افراد کے متعلق منقول ہے اور اسی بارے میں حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی صاحب کا رسالہ ’’الادراک والتوصل الی حقیقۃ الاشراک والتوسل‘‘ بھی قابل دید ہے۔ اللہ رب العزت ہمیں اسماء البدریین کو پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے (آمین)۔ (ایضاً)
(10) شیخ الحدیث مولانا محمد سالم قاسمی صاحب نے غزوات النبی ﷺ علامہ علی بن برہان الدین حلبی کے اردو ترجمہ میں ایک محدث کے حوالے سے تحریر فرمایا ہے کہ وہ فرمایاکرتے تھے کہ میں نے مشائخ حدیث سے سنا ہے کہ اصحاب بدرؓ کا نام لے کر جو دعا کی جاتی ہے وہ مقبول ہوتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے اس کا تجربہ بھی کیا ہے جو درست ثابت ہوا ہے۔ (سیرت حلبیہ ترجمہ: شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سالم قاسمی)
(11) مبلغ اسلام حضرت مولانا محمد یونس پالنپوری صاحب دامت برکاتہم فرماتے ہیں کہ اسمائے بدریین کے نام پڑھنے کے بعد دعا قبول ہوتی ہے بارہا اس کا تجربہ ہو چکا ہے۔ (بکھرے موتی)
(12) حضرت جعفر ابن عبداللہ سے منقول ہے کہ ان کے والد نے ان کو وصیت فرمائی کہ تمام صحابہ کرام سے محبت رکھیں اور خاص کر اسمائے بدر رضی اللہ عنہم کے ناموں سے وسیلہ حاصل کرتے رہیں کہ ان کے ذکر کی برکت سے دعا قبول ہوتی ہے۔ علامہ دوانی اور علامہ شیخ عمر جمال مکی وغیرہ نے فرمایا کہ اصحاب بدر کا جہاں بھی ذکر ہو وہاں جو بھی دعا کی جاتی ہے وہ قبول ہوتی ہے۔ بعض اہل علم کا بیان ہے کہ بہت سے لوگوں نے صرف اسمائے اصحاب بدر کی برکات سے درجات ولایت حاصل کئے ہیں، مریضوں نے پرانے اور مہلک امراض سے شفاء پائی ہے، مسافروں، تاجروں، دولت مندوں نے درندوں، چوروں، لٹیروں سے امن پائے ہیں۔ مفلس غنی ہو گئے ہیں، قیدیوں نے قید سے رہائی پائی ہے، نہایت تیز طوفانوں میں جہاز سلامت بچ گئے ہیں۔ بے روزگار کو روزی نصیب ہوئی ہے، الغرض ہر قسم کی جائز مرادیں حاصل ہوتی رہی ہیں۔ اہم امور میں بعض بزرگوں نے تجربہ کیا ہے کہ اسماء اصحاب بدر کا پڑھنا یا لکھ کر پاس محفوظ رکھنا موجب برکات و باعث اجابت دعا ثابت ہوا ہے۔ (کتاب: اصحاب بدر، مصنف: حضرت مولانا بخشی مصطفی علی خان نقشبندی، قادری رضوی)
(13) شیخ عبداللطیف نے اپنے رسالہ میں لکھا ہے کہ بعض علماء نے بیان کیا ہے کہ کتنے ہی اولیاء اللہ کو اہل بدر کے اسماء کی برکت سے ولایت کا مرتبہ ملا۔
(14) تمام مکاتب فکر کے شیخ الحدیث حضرات بخاری شریف میں اصحاب بدریین کے نام پڑھاتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ان کے بعد دعا کا قبول ہونا ہمارے اسلاف واکابر کے بارہا مشاہدے میں ہے اور وہ ان ناموں کے پڑھنے کے بعد دعا بھی کراتے ہیں۔
