تعویذات پر اعتراض کرنے سے پہلے یہ پڑھ لیا تو اعتراض بھول جائیں گے

(قاری محمد مسعود الرحمن، فاضل دارالعلوم حسینیہ دیہہ، امام خطیب راس الخیمہ، عرب امارات)

میں نے فیس بک پر ایک شخص کا میسج دیکھا تو انہوں نے تعویذات پر اعتراض کیا تھا کہ یہ ثابت نہیں ہے تو ایسے دوستوں کی خدمت میں گزارش ہے کہ اپنے مطالعہ کو بڑھائیں دو علمی حوالہ جات پیش خدمت ہیں:

الاسترقاء بالقرآن نحو أن يقرأ على المرض والمبدوغ أو يكتب في ورق و يعلق أو يكتب في طست فيغسل و يسقى المريض فأباحه عطاء و مجاهد وأبو قلابة

"قرآن کریم سے دم (جھاڑ پھونک) کرنا یوں کہ مریض اور (سانپ، بچھو وغیرہ سے) ڈسے پر قرآن پڑھے یا کاغذ پر لکھ کر گلے وغیرہ میں لٹکائے یا پلیٹ پر لکھ کر اور اس تحریر کو دھو کر بیمار کو پلائے اسے عطاء، مجاہد اور ابو قلابة نے جائز قرار دیا ہے۔” (الشيخ نظام وجماعة من علماء الهند، الفتاویٰ الهندية المشہو رفتاویٰ عالمگیری، 5: 356، طبع کوئٹہ)

ولا بأس بالمعاذات إذا كتب فيها القرآن أو أسماء الله تعالى…

ان گنڈے تعویذوں سے شفاء حاصل کرنے میں حرج نہیں جن میں قرآن یا اللہ کے نام لکھے ہوں۔ (علامہ ابن عابدین شامی، ردالمختار، 6: 363، دارالفکر للطباعة والنشر، بیروت)

(میں عبقری کی پوسٹیں بہت شوق سے پڑھتا ہوں اور اسے رہتی انسانیت کیلئے بہت بڑا سرمایہ سمجھتا ہوں)

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026