تعویذ لکھا رکھا اور گھریلو الجھنیں غائب

جوزیا جرمنی کے کیتھولک عیسائی گھرانہ میں پیدا ہوئیں۔ یہ 3 بہنیں اور ایک بھائی ہیں۔ ان کا چھوٹے سے قصبے آری ٹو سے تعلق ہے۔ ابتدائی تعلیم وہیں حاصل کی۔ اس کے بعد اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور پھر ایک اسکول میں پڑھاتی رہیں۔ ایک پاکستانی ڈاکٹر کوثر صاحبہ کی فیملی کے ساتھ رہتے ہوئے مسلمان ہو گئیں اور نام مریم رکھا گیا۔

بتاتی ہیں گھر چھوٹا ہو گیا، مجھے الگ گھر لینا پڑا، یہ گھر بہت خستہ حال تھا۔ اس بڑے گھر میں تین فیملیاں رہتی تھیں۔ اس کی حالت ایسی تھی کہ اس کے مالک نے ہمارا یہ مکان چھوڑنے کے کچھ عرصہ بعد اسے گرا دیا تھا۔

اس گھر میں بہت چوہے تھے۔ میں رات کو نماز پڑھتی تو چوہے تنگ کرتے، میں نے یہ بات پاپا (قبولِ اسلام کے بعد جس فیملی کے ہمراہ رہتی ان کے والد کو پاپا بلاتی) کو بتائی، پاپا نے کہا میں کیا کر سکتا ہوں جس کیلئے نماز پڑھتی ہو اس سے مسئلہ بیان کرو۔

پھر پاپا نے واقعہ سنایا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں دریائے نیل میں پانی نہیں آ رہا تھا۔ لوگ جاہلانہ رسم ادا کرنے جا رہے تھے۔ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے روک دیا۔ مسئلہ کے حل کیلئے جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے درخواست کی تو انہوں نے ایک خط لکھ کر دیا اور کہا کہ اسے دریائے نیل میں ڈال دو۔

چند مسلمان بھی مضطرب تھے اور غیر مسلم بھی حیران تھے کہ بھلا دریا کیا خط پڑھے گا۔ خشک دریا میں خط ڈال دیا گیا۔ خط کا مفہوم یہ تھا:۔

اگر دریاۓ نیل اللہ کے حکم سے چلتے ہو تو میں اللہ کا خلیفہ تمہیں چلنے کا کہتا ہوں، وہ دن اور آج کا دن دریاۓ نیل میں پانی چل رہا ہے جہاز رانی ہو رہی ہے۔

اسی طرح خط لکھنے کا واقعہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں پیش آیا۔ جب مسلمان مجاہدین کی ایک جماعت ایتھوپیا پہنچی تو وہاں بہت زیادہ سانپ بچھو اور دوسرے کیڑے مکوڑے تھے۔ انہوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو خط لکھا، آپ رضی اللہ عنہ نے جگہ کا نقشہ منگوایا اور پھر 2 خط روانہ کر دیئے۔ ایک خط مسلمانوں کے نام تھا کہ آپ اس علاقہ میں موجود ٹیلے پر جمع ہو جائیں اور آواز دیں: ’’اے حشرات الارض! اے حشرات الارض! جمع ہو جاؤ اور پھر دوسرا خط ان کو پڑھ کر سنا دیں۔

انہوں نے ٹیلے پر چڑھ کر جب صدا لگائی تو حشرات الارض جمع ہو گئے جس میں سانپ، بچھو دیگر کیڑے مکوڑے سب شامل تھے۔ پھر انہیں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا خط سنایا گیا جس میں آپ رضی اللہ عنہ نے لکھا تھا: ’’اے حشرات الارض یہ اللہ کے بندے ہیں اللہ کے کام سے یہاں آئے ہیں انہیں تکلیف نہ پہنچاؤ‘‘۔

خط سن کر سب حشرات الارض وہاں سے چلے گئے اور مسلمان وہاں آرام سے رہے۔ اس وقت سے آج تک ایتھوپیا کے اس علاقہ میں کہیں حشرات الارض نہیں پائے جاتے۔

چوہوں کے نام خط:
مریم باجی کہنے لگیں: میں نے بھی فیصلہ کر لیا کہ میں چوہوں کو خط لکھوں گی لیکن پھر خیال آیا کہاں میں کہاں وہ عظیم المرتبت لوگ۔ میرے خط لکھنے کے ارادے کا کچھ لوگوں کا پتہ چل گیا۔ مسلمان خوفزدہ ہو گئے کیونکہ غیر مسلموں نے مذاق اڑانا شروع کر دیا تھا کہ اب یہ پاگل ہو گئی ہے۔ بھلا چوہے بھی انسانوں کے خط پڑھیں گے، پاپا نے حوصلہ دیا سچ ہے اہلِ ایمان حق کی بات کرتے ہیں۔ انہیں پاگل، دیوانہ، مجنوں کہا جاتا ہے۔ خیر میں نے چوہوں کے بل کے قریب خط رکھ دیا۔

جس میں تحریر تھا مفہوم: ’’اے چوہو میں اللہ کی بندی ہوں اللہ کی عبادت میں تمہاری وجہ سے ڈسٹرب ہوتی ہوں‘‘۔ پھر چوہے وہاں سے چلے گئے اور کبھی ڈسٹرب نہ کیا مسلمان غیر مسلم سب حیران تھے۔ چوہے کسی انسان کا خط پڑھ کر اس کے مطابق عمل کریں۔

(تحریر: شمس القمر نقشبندی، روزنامہ ’’خبریں‘‘ سکھر یکم دسمبر 2006ء)

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026