جاؤ ! کسی مردے پر فاتحہ پڑھو، زندہ کے پاس کیا لینے آئے ہو؟

علامہ عبد المصطفی اعظمی رحمة الله عليه ( مکتبہ بریلویہ) لکھتے ہیں کہ حضرت خواجہ حسن افغان رحمة الله عليه شیخ بہاؤ الدین زکریا ملتانی رحمة الله عليه کے مرید خاص تھے۔ ایک دفعه دوران سفر کسی مسجد میں نماز پڑھنے کیلئے جماعت میں شریک ہو گئے۔ جب نماز مکمل ہوئی اور سب نمازی چلے گئے تو آپ رحمة الله عليه نے امام مسجد کو فرمایا : اے خواجہ! میں نے دیکھا کہ تم نماز کے دوران پہلے دہلی پہنچے ، وہاں سے غلام خرید کر خراسان لے گئے ۔ پھر وہاں سے چلتے ہوئے ملتان آگئے اور میں تمہارے پیچھے حیران پھرتا رہا کہ آخر یہ کیسی نماز ہے؟

مولانا محمد اسحاق بھٹی رحمة الله عليه مکتبہ اہل حدیث ) لکھتے ہیں کہ : 1947 ء کے فسادات کے دوران ایک بزرگ میاں اللہ دتہ مرحوم کو باز و پر گولی لگی اور وہ گرتے پڑتے پاکستان پہنچ گئے۔ ہڈی ٹوٹی ہوئی تھی اور زخم بگڑتا جارہا تھا۔ اس طرح چار ماہ بعد اپنے شیخ طریقت مولانا صوفی محمد سلیمان روہڑی رحمة الله عليه کے پاس جہانیاں منڈی پہنچے اور اپنی پریشانی بتائی۔ انہوں نے فرمایا: پٹی کھول دو۔ ان شاء اللہ یہ زخم اب بالکل ٹھیک ہو جائے گا۔ لیکن یا درکھنا کہ تمہاری موت اسی زخم سے ہوگی اور اللہ تمہیں شہادت کی موت عطا فرمائے گا۔ بس ان کے منہ سے یہ بات نکلنے کی دیر تھی کہ پھر نہ کوئی زخم رہا، نہ درد اور نہ ہی پیپ ۔ باز و بالکل صحیح سلامت ہو گیا اور پندرہ سال گزر گئے ۔ ایک دن اچانک کسی ظاہری سبب کے بغیر ان کا زخم دوبارہ تازہ ہوا تو بولے: اب میں نہیں بچوں گا ، کیونکہ میرے شیخ رحمة الله عليه نے پیشین گوئی فرمائی تھی۔ چنانچہ چند روز بعد خالق حقیقی سے جاملے۔

مفتی ثناء اللہ محمود صاحب لکھتے ہیں کہ: حافظ ضامن شہید رحمة الله عليه کو علما میں خاص مقام حاصل ہے۔ مولانا اشرف علی تھانوی رحمة الله عليه کا بیان ہے کہ ایک صاحب کشف بزرگ جب حضرت حافظ صاحب رحمة الله عليه کے مزار پر فاتحہ پڑھنے تشریف لے گئے تو بعد میں کہے لگے: بھائی صاحب ! یہ بزرگ کون ہیں؟ بڑی دل لگی کرتے ہیں۔ جب میں ان کے مزار پر فاتحہ پڑھنے لگا تو مجھ سے فرمانے لگے : جاؤ کسی مردے پر فاتحہ پڑھو، یہاں زندوں پر کیا پڑھنے آئے ہو؟

علامہ مفتی طالب حسین ( مکتبہ اثنا عشریہ ) لکھتے ہیں : اس بات پر تمام علمائے اہل سنت و مجتہدین شیعت کا اتفاق ہے کہ بعض اوقات اللہ تعالٰی اپنے خاص بندوں کی باطنی آنکھ کھول دیتا ہے، جسے عرف عام میں ” کشف” سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ کشف کی کئی اقسام ہیں، مثلاً کشف الصدور ، کشف القبور، کشف الارواح ، کشف سمعی اور کشف بصری و غیر هم – چنانچہ ائمہ معصومین میں شامل تمام بزرگان کرام کا کشف اتنا قوی تھا، جس کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔ امام نعمان بن ثابت المعروف به ابو حنیفہ رحمة الله عليه کو کشفی طور پر وضو کے پانی میں جو لوگوں کے گناہ نظر آجایا کرتے تھے تو یہ امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ ہی کی صحبت کیمیا اثر کی تاثیر تھی.

قارئین ! اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ماہنامہ عبقری کے سلسلہ وار کالم جنات کا پیدائشی دوست میں بیان کیے جانے والے کشف کے واقعات سو فیصد برحق ہیں۔ تمام مکاتب فکر کے اکابر و اسلاف میں آپ کو وہ ہستیاں تو کثرت سے ملیں گئی جنہوں نے ایسی باتوں کو سچ جانا ، مگر کوئی ایک شخصیت بھی ایسی نہیں ملے گی، جس نے ان باتوں کا انکار کیا ہو۔

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2025