حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن مجھ سے پوچھا: اے ابن ابی طالب! کیا بات ہے کہ میں تمہیں غمگین دیکھ رہا ہوں۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ واقعی میں غمگین ہوں۔ فرمایا: جاؤ اور اپنے گھر والوں میں سے کسی کو کہو کہ وہ تمہارے کان میں اذان پڑھے۔
(سنن کبریٰ، تالیف: امام عبدالوہاب شعرانیؒ – کتاب الزہد، تالیف: شیخ ابوالحسن مالکیؒ)
امام شعرانی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ یہ حدیث ہم تک متصل سند کے ساتھ پہنچی ہے اور میں نے کئی مرتبہ اس عمل کا ذاتی تجربہ کیا تو اسے مجرب پایا۔
(بحوالہ کتاب: الداء والدواء صفحہ 19 تالیف: علامہ نواب سید محمد صدیق حسن خانؒ، ناشر: اسلامی کتب خانہ اردو بازار لاہور)
جائز ناجائز، حلال حرام اور شریعت ہم سے زیادہ ہمارے بڑے جانتے تھے
