دارالعلوم کے مایہ نازمدرس ، شیخ الہند کے شاگرد، حاجی امداد اللہ مہاجر مکی ؒ کے خلیفہ حضرت مولانا میاں اصغر حسین صاحب ، جوکہ علمی دنیامیں باکمال ہونے کے ساتھ ساتھ ’’تعویذات اور عملیات ‘‘میں بے مثال ہستی تھے ،ہندو ومسلم بلاامتیاز آپ کے ’’تعویذات‘‘ سے فیض یاب ہوتے ،جناب احسان دانش صاحب آپ کے جنات کے ساتھ وابستگی کے واقعات کو کچھ اس اندا ز سے بیان کرتے ہیں جسے پڑھ کر آپ کو ’’ماہنامہ عبقری میں علامہ لاہوتی صاحب ؒ کےبیان کردہ’’ جناتی‘‘ واقعات کی حقیقت واضح ہوجائےگی۔۔۔
جناب احسان دانش صاحب فرماتے ہیں کہ میں نے معتبر حضرات سے سنا ہےکہ زندگی کے آخری ایام میں ایک صاحب حضرت مولانا میاں اصغر حسین صاحب کو گجرات سے راندیر لے گئے ، جہاں ان کی حویلی میں جنات نے قبضہ کرلیا تھا۔ میاں صاحب جب وہاں پہنچےتوان کے پاس ایک’’ جن‘‘ بصورت انسان آیا جس کےہاتھ میں بہت بڑا پنجرا تھا جس میں سیکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں چھوٹے چھوٹے جانور تھے ، اس نےکہا میاں صاحب ؒ، اس حویلی میں ہم اتنے رہتے ہیں آپ ہمیں یہاں سے نہ نکالیں ، لیکن میاں صاحب پہلے اس حویلی کے مالک سے وعدہ کرچکےتھے اس لیے انہوں نے اس’’ جن‘‘ سے اپنی معذرت ظاہر کردی ۔ بعض حضرات کا خیال ہے کہ میاں صاحب کی موت کا سبب یہی ’’جنات‘‘ بنے تھے (گجرات جاتے وقت بعض قریبی دوستوں سے میاں صاحب ؒاپنی موت کی طرف اشارہ کرگئے تھے) واللہ اعلم ۔
(بحوالہ کتاب جہان دگر ، مصنف جناب احسان دانش صاحب ، ص 271، ناشر خزینہ علم وادب لاہور)
یادر کھیں ! ’’ماہنامہ عبقری جنات ‘‘کےواقعات کو بناتا نہیں بلکہ بتا تا ہے ۔۔۔جوکہ ہمارےاکابر ؒ کی کتابوں میں ہزاروں کی تعد اد میں بکھر ے پڑے ہیں۔۔۔۔!
