محترم قارئین ! قسط نمبر 279 میں شیخ الحدیث والتفسیر مفتی زرولی خان صاحب کی زبانی کو بیان کیا گیا تھا کہ حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمتہ اللہ علیہ ان علماء میں سے تھے، جو جنات کے بھی مفتی اعظم اور استاذ ہوتے ہیں ۔ یعنی اس سے ثابت ہوا کہ ایسے اور بھی کئی اکابرگزرے ہیں جو جنات کے پیدائشی دوست حضرت علامہ لاہوتی پراسراری صاحب دامت برکاتہم العالیہ کی طرح جنات کے پیر و مرشد تھے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کا جنات کی دنیا میں کیا مقام تھا۔
مولا نا محمد انور بن اختر لکھتے ہیں
ایک مرتبہ حضرت امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ان کے پاس اس وقت کے حاکم خلیفہ متوکل کی طرف سے ایک آدمی آیا اور کہنے لگا: امیر المومنین کے گھر میں ایک بچی آسیب کا شکار ہو گئی ہے۔ انہوں نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے کہ آپ اس کیلئے عافیت کی دعا کریں۔ امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے لکڑی کے جوتے اسے دیے اور فرمایا: گھر جا کر اس لڑکی کے سرہانے بیٹھ کر کہو : احمد بن حنبل نے کہا ہے کہ تمہیں دو باتوں میں سے کون سی بات پسند ہے؟ لڑکی کا پیچھا چھوڑو گے یا ستر جوتے کھاؤ گے؟ وہ شخص جوتے لے کر چلا گیا اور جن کو یہی پیغام سنا دیا۔ جن کہنے لگا : اگر وہ ہمیں یہاں کی بجائے عراق سے نکلنے کا حکم دیں گے تو ہم عراق سے بھی نکل جائیں گے، کیونکہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی، اور جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتا ہے، ہر چیز اس کی اطاعت کرتی ہے۔ چنانچہ وہ لڑکی کے جسم سے نکل گیا اور لڑکی ٹھیک ہو گئی۔ کافی عرصے بعد جب امام احمد بن حنبل رحمتہ اللہ علیہ کا انتقال ہوا تو وہی جن اس لڑکی پر دوبارہ سوار ہو گیا۔ خلیفہ متوکل نے امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کے کسی شاگرد کو طلب کیا تو ایک شاگردان کا وہی جوتا لے کر چلے گئے اور جا کر کہا: لڑکی کے جسم سے نکل جا، ورنہ تیری پٹائی ہوگی ۔ یہ سن کر جن بولا : نہ میں تمہاری بات مانوں گا ، نہ ہی اس لڑکی کے جسم سے نکلوں گا، کیونکہ امام احمد بن حنبل رحمتہ اللہ علیہ تو اطاعت گزار بندے تھے، اس لیے ہم نے بھی انہی کی اطاعت کی ۔
(بحوالہ کتاب: اکابر کے واقعات ، صفحہ 202 ناشر : ادارہ اشاعت اسلام، اردو بازار کراچی )
محترم قارئین! یہاں دو باتیں سمجھنے کی ہیں (۱) امام احمد بن حنبل رحمتہ اللہ علیہ کا اس لڑکی کیلئے دعا اور دم وغیرہ کرنے کی بجائے جوتا بھجنے میں یہ مقصد تھا کہ اسے پتہ چلے کہ جن اللہ والوں کے جوتوں کی برکت سے اتنے بڑے مصائب دور ہو جاتے ہیں ، ان کی دعا سے کائنات کی کیا کیا نعمتیں حاصل ہوتی ہوں گی؟
(۲) اگر چہ شاگرد عالم دین نے بھی جن بھگانے کا وہی طریقہ اختیار کیا لیکن یہاں یہ سبق دینا مقصود تھا کہ ہر عالم دین جنات کے ہاں قابل تعظیم نہیں ہوتا، بلکہ صرف و صرف با عمل متقی اور صالح عالم دین ہی اس قابل ہے، جس کی بات مانی جائے اور جس کی جوتیوں سے بھی حیاء کی جائے ۔ ورنہ ہر شخص جنات کا پیدائشی دوست علامہ لاہوتی پراسراری حفظہ اللہ تعالی بن جاتا۔ مگر یہ ازلی حقیقت ہے کہ صدیوں بعد ایسا لعل و گوہر پیدا ہوتا ہے، جسے اللہ پاک جل شانہ کے ہاں اتنی محبوبیت اور مخلوق خدا میں اتنی مقبولیت حاصل ہوتی ہے کہ انسان تو انسان ، بھٹکے ہوئے شریر جنات بھی اس کی برکت سے ہدایت پا جاتے ہیں۔
