محترم قارئین! بعض لوگ پوچھتے ہیں کہ عبقری کے وظائف کس حدیث سے ثابت ہیں؟ ’’اکابر پر اعتماد‘‘ گروپ کے ممبرز کو پچھلی تین سو اقساط میں معلوم ہو گیا ہوگا، کہ عبقری کا ہر وظیفہ ہمارے اکابر و اسلافؒ کے ذریعے شریعت سے ثابت ہے، جیسا کہ مولانا ابو احمد طہٰ مدنی صاحب لکھتے ہیں کہ ایک شخص کسریٰ (ایران) کے سفر پہ گیا، اس کی عدم موجودگی میں ایک شیطان جن نے اسی کی صورت میں آ کر اس کی بیوی کے ساتھ تعلقات قائم کر لیے۔ حتیٰ کہ اس جن نے آواز بھی اسی آدمی کی اختیار کر رکھی تھی، اس لیے اس عورت کو بھی کوئی شبہ پیدا نہ ہوا۔ جب وہ شخص سفر سے واپس آیا تو اس کی بیوی نے پہلے کی طرح اس کا کوئی استقبال نہ کیا، نہ ہی اس کی خاطر اپنے آپ کو آراستہ کیا۔ اس شخص نے تعجب کا اظہار کرتے ہوئے بیوی سے پوچھا تو وہ کہنے لگی: تم کہاں گئے تھے؟ تم تو روز یہیں پہ میرے پاس ہوتے ہو۔ چنانچہ جونہی رات ہوئی تو وہ جن آ گیا اور کہنے لگا: مجھے تمہاری بیوی سے محبت ہو گئی ہے، میں تمہاری شکل میں روزانہ اس کے پاس آتا رہا۔ تم مجھ سے ناراض ہونے کی بجائے دو میں سے ایک شرط مان لو۔ یا تو مجھے دن میں اپنی بیوی کے پاس آنے کی اجازت دے دو یا رات کو! اس شخص نے مجبوری میں دن اپنے لیے منتخب کر لیا۔ ایک رات وہ جن آ کر کہنے لگا: میں کئی راتیں تمہاری بیوی کے پاس آتا رہا، اب قومِ جنات کی طرف سے میری ڈیوٹی لگ گئی ہے کہ آسمان کے قریب جا کر راز کی باتیں چرا کر لاؤں۔ اگر تم میرے ساتھ آنا چاہو تو آ جاؤ۔ چنانچہ وہ ایک خنزیر کی صورت میں میرے سامنے نمودار ہوا اور کہنے لگا: میری پیٹھ کے بال مضبوطی سے پکڑ لو، تم عجیب و غریب چیزیں دیکھو گے، مگر مجھ سے جدا نہ ہونا، ورنہ ہلاک ہو جاؤ گے۔ پھر اس نے اوپر کی طرف پرواز کی، حتیٰ کہ آسمان کے ساتھ جا کر چمٹ گیا۔ وہاں میں نے ہاتفِ غیبی کا کلام سنا، جو یہ تھا:
لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ – مَا شَاءَ اللَّهُ كَانَ وَمَا لَمْ يَشَأْ لَمْ يَكُنْ۔
میں نے یہ کلمات یاد کر لیے۔ پھر وہ مجھے لے کر زمین پر اتر آیا۔ لہذا جب اگلی رات وہ میری بیوی کے پاس آیا تو میں نے یہی کلمات پڑھنا شروع کر دیے، اس جن کی حالت خراب ہونے لگی۔ میں ان کلمات کو دہراتا گیا، حتیٰ کہ وہ جن جل کر راکھ ہو گیا۔
(بحوالہ کتاب: پرتاثیر واقعات، صفحہ 156 ناشر: مکتبہ یادگارِ شیخؒ، غزنی اسٹریٹ، اردو بازار لاہور)
