جنات کے بچے کا قتل اور عدالت کا فیصلہ

ماہنامہ عبقری رسالہ میں ہر ماہ علامہ لاہوتی پر اسراری دامت برکاتہم کا ہر دلعزیز کالم{ جنات کا پیدائشی دوست} شائع ہوتاہے۔جس میں علامہ صاحب نے کائنات کے حیرت انگیز رازوںسے پردہ اٹھایا ہے۔ علامہ صاحب اس دور میں وہ عظیم روحانی شخصیت ہیں جن پر اللہ جل شانہ نے روحانیت کے کمالات اور مشاہدات کا انوکھا جہان کھولا ہے ۔ جنات میں علامہ صاحب کا وقار عظمت اور شان و شوکت بہت زیادہ ہے۔اللہ والے ہر جگہ سے مخلوق کے لئے خیر ڈھونڈ کر نکال لاتے ہیں، اسی طرح علامہ صاحب نے بھی ہمیں جنات کی دنیا سے متعارف کرانے کے ساتھ ساتھ دنیا آخرت میں کامیاب ہونے کے لئے مقبول و محبوب اعمال ، وظائف اور ان سے ملنے والی غیبی مدد سے روشناس کروایا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پوری دنیا میں لوگ علامہ لاہوتی پر اسراری دامت برکاتہم سے بے انتہا محبت اور عقیدت رکھتے ہیں اور عبقر ی کے ذریعےان سے فیضیاب ہو رہے ہیں۔یا درہے جنات کی دنیا سے شناسائی، ان سے ملاقات اور واقعات ہمارے اکابر کی زندگی میںبھی موجود تھے،اس کے حوالے کے طور پر ہفت روزہ ختم نبوت رسالہ سےایک واقعہ پیش کیا جارہا ہے ۔

{شاہی مسجد کہروڑ پکا کے خطیب حافظ حفظ الرحمن کہتے ہیں کہ مولاناغلام محمد ریحان جو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کہروڑ پکا کے ایک عرصہ تک امیر رہے۔ایسے ہی بخاری چوک کی جامع مسجد میں عرصہ دراز تک امامت و خطابت کے فرائض سر انجام دیتے رہے۔ بخاری چوک والی مسجدسے پہلے ایک اور مسجد میں بھی امام اور خطیب رہے ۔ ایک دن مسجد میں آئے تو ایک سانپ کے بچے کو دیکھاتو سانپ سمجھ کر مار دیا، وہ سانپ نہیں بلکہ جن تھا۔ سانپ کے متعلق بھی مسئلہ یہ ہے کہ اگر سانپ ہو تو اسے تین دفعہ آواز دوکہ اگر تو کوئی اور چیز ہے تو نکل جا اور اگر نہ جائے تو اسے ماردو۔ بہر حال تھوڑی دیر کے بعد مولانا غائب ہو گئے، یعنی انہیں جنات اٹھا کر لے گئے اور تقریباً تین چار روز غائب رہے۔ان کا کیس جنات کے قاضی کے سامنے پیش ہوا کہ مولوی صاحب نے ہمارا بچہ مار دیاہے۔

مولانا سے پوچھا گیا تو مولانا نے کہا کہ میں نے سانپ کو مارا تھا نہ کہ کسی آدمی اور جن کو ، تو انہیں کہا گیاکہ وہ جن تھا، جو سانپ کی شکل میں تھا۔ تو بہر حال جنات کے سربراہ نے کہا کہ آہ کے بچے کو کس نے کہا تھاکہ وہ سانپ کی شکل اختیار کر کے مسجد میں جائے؟ پھر قاضی نے ایک کبیر السن بڑی عمر کے جن کو طلب کیاوہ جن بڑی عمر کا تھا۔ اتنی بڑی عمرکہ اس کی آنکھیں پلکوں کے نیچے چھپ گئیں تھیں پلکیں اٹھا کر دیکھتا تو اس نے تصدیق کی کہ واقعتاً یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے۔قاضی نے اپنے گارڈ (حفاظتی دستہ)کی حفاظت میں انہیں بھیجا ، وہ آ کر ساٹھ ہزاری نہر جو کہروڑ پکا سے پہلے واقع ہے۔اس وقت جنگل ہوتا تھا، چھوڑ گئے تین چار دن جب موصوف غائب رہے تو والدین اور گھر والے پریشان اور ان کے استاذ قاری امیر الدین اپنی جگہ پر غصہ کہ میرا شاگرد بغیر اجازت کے غائب رہا، جب واپس آئے تو اس کے بعد حضرت قاری صاحب بہت محبت فرماتےتھے۔ ،مسجد قاضیاں کے خطیب مولانا محمد یعقوب جو اچھے عامل تھے انہوں نے عملیات کے ذریعہ جنات کو بھگایا۔ مولانا محمد ریحان نے۱۷ جنوری ۲۰۱۷کو انتقال فرمایا۔

(مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی)

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2025