پروفیسر ڈاکٹر سید وقار احمد رضوی لکھتے ہیں کہ : دارالعلوم کے اول شیخ الحدیث حضرت مولانا سید احمد حسن امروہوی رحمۃ اللہ علیہ کے پاس ایک طالب علم جنات سے متعلق پائے جانے والے شکوک و شبہات لے کر حاضر ہوا تو آپ نے میرے سوالوں کے جواب میں فرمایا کہ: نامور فقیہ شیخ احمد بن موسیٰ رحمۃ اللہ علیہ کے پاس ان کے شاگر د علامہ جندی ” پڑھنے کیلئے مسجد پہنچے تو دیکھا کہ استاد محترم کچھ لوگوں کے ساتھ بات چیت کرنے میں مصروف ہیں ۔
لہذا وہ خاموشی سے ایک طرف رک گئے ۔ فرمانے لگے کہ جب مجھے باتوں کی آواز آنا ختم ہو گئی تو میں ذرا سا کھانسا ، تا کہ استاد محترم متوجہ ہو جائیں ۔ شیخ احمد بن موسیٰ رحمۃ اللہ علیہ نے کھانسنے کی آواز سن کر پوچھا: کون ؟ تو میں نے عرض کی کہ میں ہوں۔ آپ نے اندر آنے کی اجازت عنایت فرمائی لیکن میں نے اندر جا کر دیکھا تو وہاں کوئی نہیں تھا۔ میں نے عرض کی: حضور ! ابھی ابھی تو میں آپ کے پاس کئی لوگوں کی آواز میں سن رہا تھا مگر اب یہاں کوئی بھی موجود نہیں ؟ شیخ احمد بن موسیٰ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: وہ ہمارے جن بھائی تھے جو مجھ سے مختلف مسائل دریافت کرنے کیلئے آئے ہوئے تھے.
(بحوالہ کتاب: دار العلوم کے اول شیخ الحدیث کے احوال و آثار صفحہ ۱۵۵ مصنف: پروفیسر ڈاکٹر سید وقار احمد رضوی، ناشر: مکتبہ رشید یہ کراچی)
دینی مدارس میں عمران سیریز کی جھوٹی کہانیوں کا رواج
محترم قارئین ! درج بالا واقعے میں عبقری میگزین میں بیان کردہ حضرت علامہ لاہوتی پر اسراری دامت برکاتہم العالیہ کے جناتی واقعات جیسی ہی باتیں ہیں کہ سب کی موجودگی میں صرف ایک شخص کو جنات نظر آئیں مگر ان کے علاوہ کسی کو نظر نہ آئیں ۔ کیا اب عقل پرست لوگ اس واقعے کو بھی دیو مالائی کہانی یا من گھڑت قصے کہیں گے؟ حالانکہ دار العلوم کے شیخ الحدیث کی علمی عظمت اور وقار سب کے سامنے ہے۔ کیا وہ بھی دارالعلوم جیسے عظیم مدرسے میں بیٹھ کر عمران سیریز کی خود ساختہ کہانیاں بیان کرتے تھے؟
