حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے اللہ رب العزت کی 99 مرتبہ خواب میں زیارت کی۔ ایک دن میں نے دل میں سوچا کہ اگر آئندہ زیارت ہوئی تو سوال کروں گا کہ وہ کون سا ایسا عمل ہے جس کی برکت سے آپ کی مخلوق کو قیامت کے دن آپ کے عذاب سے نجات ملے گی۔ پس جب اگلی مرتبہ زیارت ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میرا جو بھی بندہ صبح و شام یہ دعا ایک مرتبہ پڑھے گا وہ میرے عذاب سے نجات پا گیا۔
سبحان الابدی الابد سبحان الواحد الاحد سبحان الفرد الصمد سبحان رافع السماء بغیر عمد سبحان من بسط الارض علی ماء جمد سبحان من خلق الخلق فاحصاهم عدد سبحان من قسم الرزق ولم ینس احد سبحان الذی لم یتخذ صاحبة ولا ولد سبحان الذی لم یلد ولم یولد ولم یکن له کفوا احد.
(بحوالہ کتاب: ہفت گوہر، صفحہ 10، مصنف: مولانا محمد یوسف فقیر دہلوی، ناشر: صدیقی ٹرسٹ، نزد سبیلہ چوک، کراچی)
قارئین! غور فرمائیں کہ درج بالا تحریر میں وقت کی پابندی کے ساتھ ایک ایسا وظیفہ بتایا گیا ہے جس کا نہ قرآن میں ثبوت ملتا ہے اور نہ ہی احادیث میں۔ لیکن اس کے باوجود ہم اس وظیفے کو عبقری کا خود ساختہ اور من گھڑت نہیں کہہ سکتے۔ کیوں؟ کیونکہ یہ اور اس جیسے دیگر تمام وظائف عبقری نے صرف بتائے ہیں، بنائے نہیں۔ لہٰذا ہمیں چاہئے کہ عبقری کے متعلق بلا وجہ بدگمان ہونے کی بجائے اپنے اکابر و اسلاف سے شناسائی حاصل کریں، جو ہر دور میں اور ہر مشکل کیلئے وہی وظائف بتایا کرتے تھے جن پر آج ہم طرح طرح کے خود ساختہ فتوے لگاتے ہیں۔
