حضرت تھانوی رحمة الله عليه کی زبانی جنات سے ملاقات کا ثبوت

قسط نمبر 77
حضرت تھانوی رحمة الله عليه کی زبانی جنات سے ملاقات کا ثبوت

حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمة الله عليه لکھتے ہیں کہ شیخ ابو الفضل بن جو ہری مصر میں علم اور ولایت کا دروازہ تھے۔ امام یافعی رحمة الله عليه اپنی کتاب ” روض الریاحین میں یہ واقعہ نقل کرتے ہیں کہ ایک دن شیخ ابوبکر رحمة الله عليه نے شیخ ابو الفضل جو ہری رحمة الله عليه کے متعلق سنا تو ان کی زیارت کیلئے مصر پہنچے۔ وہاں جا کر دیکھا تو قیمتی لباس پہنے ایک حسین و جمیل شیخ جمعے کا خطبہ دے رہے تھے۔ وہ فرماتے ہیں کہ یہ دیکھ کر میرے دل میں خیال آیا کہ کیا اللہ والے ایسے ہوتے ہیں؟ لہذا میں انہیں اسی حال میں چھوڑ کر واپس چل پڑا ۔ اتنے میں مصر کی گلی سے ایک عورت واویلا کرتی ہوئی میرے سامنے آئی اور کہنے لگی : حضور! میں نے بڑی مشکل اور حفاظت سے اپنی بیٹی کو پال کر جوان کیا اور پھر ایک نیک اور با صلاحیت جو ان کے ساتھ اس کا نکاح کر دیا۔ آج رات اس کی رخصتی ہوئی تھی، مگر اس پر جن کا عارضہ ہو گیا ہے اور اس کی عقل ماری گئی ہے۔ میں اس کے ساتھ اس کے گھر گیا تو ایک خوبصورت لڑکی تکلیف کی وجہ سے دائیں بائیں گھور رہی تھی۔ میں نے اس کے سامنے مختلف قراتوں میں قرآن پاک کی دس آیات پڑھیں تو اس کے اندر سے جن بولنے لگا جس کی باتیں دوسرے گھر والوں نے بھی سنیں۔ وہ کہنے لگا: اے شیخ مجھے خبرنہیں کہ ہم 70 جنات ہیں اور سب کے سب حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر مسلمان ہوئے تھے۔ تو نے تو شیخ ابوالفضل جو ہری رحمة الله عليه کو ظاہری وضع قطع سے حقیر سمجھا ہے، مگر ہم ان کا اکرام کرتے ہیں۔ آج ہم سب مصر میں ان کے پیچھے نماز پڑھنے آئے تو یہاں سے گزرتے ہوئے اس لڑکی نے ہم پر نجاست پھینک دی۔ میرے باقی دوست تو بچ گئے مگر میرا جسم نا پاک ہو گیا اور میں اس شیخ کامل رحمة الله عليه کے پیچھے نماز پڑھنے سے محروم رہ گیا۔ لہذا میں نے اسی غصے کی وجہ سے اس کے دماغ پر قبضہ کر لیا ہے۔ شیخ ابو بکر رحمة الله عليه نے کہا: تو پھر میں تجھے انہی شیخ ابوالفضل رحمة الله عليه کی حرمت کی قسم دیتا ہوں کہ اس بے چاری لڑکی کو چھوڑ کر چلے جاؤ۔ جن نے کہا: ٹھیک ہے میں ان کی خاطر تیری بات مانتا ہوں ۔ لہٰذا اس لڑکی کو آرام آگیا اور اس نے شیخ ابوبکر سے حیا کرتے ہوئے چہرے پر پردہ ڈال لیا۔ لڑکی کی ماں نے انہیں بہت دعائیں دیں اور وہ شیخ ابوالفضل جوہری رحمة الله عليه کے متعلق اپنی بدگمانی پر شرمندہ ہوتے ہوئے واپس ان کی محفل میں پہنچے۔ شیخ ابو الفضل رحمة الله عليه نے انہیں دیکھا تو دور سے فرمایا: ہم شیخ ابوبکر رحمة الله عليه کو خوش آمدید کہتے ہیں، جنہوں نے ہمارے متعلق جنات کی بتائی ہوئی بات کی تصدیق کی۔ اس کے بعد شیخ ابوبکر رحمة الله عليه نے توبہ کی اور بہت عرصہ ان کی صحبت میں گزارا۔ فرمایا کرتے تھے کہ میں نے اللہ تعالی سے اس بات کی توفیق مانگی ہے کہ آئندہ میں نیک لوگوں کی کرامتوں کا انکار نہ کر سکوں۔

بحوالہ کتاب: جمال الاولیاء صفحہ 659 مصنف : علامہ یوسف بن اسماعیل نبھانی رحمة الله عليه تلخیص : حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمة الله عليه ترجمه مولانا جمیل احمد تھانوی رحمة الله عليه ناشر: ادارہ اسلامیات انار کلی بازار لاہور

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2025