قسط نمبر 81
حضرت حسن بصری رحمة الله عليه کے بند کمرے میں جنات کا درس
اکابر پر اعتماد
حضرت عبد الله رحمة الله علیہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نماز فجر کیلئے میں حضرت حسن بصری رحمة الله علیہ کی مسجد میں گیا تو اندر سے دروازہ بند تھا اور آپ رحمة الله عليه دعا میں مشغول تھے۔ کچھ لوگوں کے آمین کہنے کی آوازیں بھی آرہی تھیں ۔ چنانچہ میں نے سوچا کہ شاید آپ رحمة الله علیہ کے مریدین ہوں گے اس لیے باہر ہی ٹھہر گیا کچھ دیر بعد جب دروازہ کھلا اور میں نے اندر جاکر دیکھا تو حضرت حسن بصری رحمة الله علیہ وہاں اکیلے بیٹھے ہوئے تھے۔ میں نے ان سے صورت حال دریافت کی تو فرمایا : میرے یہاں جنات آتے ہیں اور میں ان کے سامنے وعظ کہہ کے دعا کراتا ہوں، جس پر وہ سب آمین کہتے ہیں۔
(بحوالہ کتاب : تذکرۃ الاولیاء صفحہ 30 مصنف : شیخ فرید الدین عطار رحمة الله علیہ ناشر: الحمد پبلی کیشنز پرانی انار کلی لاہور )
محترم قارئین ! ماہنامہ عبقری میں شائع ہونے والا کالم ” جنات کا پیدائشی دوست اکابر و اسلاف کی ترتیب کے عین مطابق شریعت کے اس پہلو کو بیان کر رہا ہے، جس کا وجود بڑے بڑے اولیاء کرام رحمہم اللہ کی زندگی میں واضح تھا، مگر فتنوں بھرے دور میں جب کامل روحانی پیشواؤں کی قلت ہوئی تو طلسماتی اور جناتی دنیا کا یہ باب بھی بند ہو گیا۔ الحمد للہ یہ سعادت بھی عبقری کے حصے میں آئی کہ مخلوق خدا کو جہاں تسبیح ذکر اور اعمال کی طرف واپس لوٹانے کی خدمت انجام دی وہاں اکابر و اسلاف جیسے درست عقائد بھی دیے کہ ہماری کائنات میں انسانوں کے علاوہ جنات بھی موجود ہیں، جو ہمارے ساتھ اسی زمین پر رہتے اور دوسری مخلوقات کی طرح ہم پر اثر انداز ہوتے ہیں.
