حضرت مولانا قمر عثمانی صاحب مدظلہ لکھتے ہیں : رات کا پچھلا پہرتھا ، حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ مسجد میں مصروف عبادت تھے کہ اچانک انہیں مسجد کے ستون پر کوئی چیز رینگتی ہوئی محسوس ہوئی۔ اسی دوران ایک بڑا سانپ ان کے سامنے پھن لہرانے لگا۔ انہوں نے بلاکسی خوف کے سانپ کو ہاتھ سے ہٹا دیا اور سجدے میں چلے گئے۔ پھر جب التحیات میں بیٹھے تو سانپ ان کی ران سے ہوتا ہوا گردن سے لپٹ گیا۔ مگر جب انہوں نے سلام پھیرا تو سانپ وہاں موجود ہی نہ ۔تھا
اگلے دن حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کو ایک اور انوکھا واقعہ پیش آیا۔ وہ مسجد کے ایک قریبی میدان سے گزر رہے تھے کہ انہیں ایسا شخص نظر آیا، جس کی آنکھیں بلی سے ملتی جلتی تھیں۔ البتہ غیر معمولی طور پر اس کا قد بہت لمبا تھا۔ انہیں یقین ہو گیا کہ یہ واقعی کوئی جن ہے۔ چنانچہ وہ شخص کہنے لگا: میں سچ سچ ایک جن ہوں، کل آپ نے مجھے سانپ کے روپ میں دیکھا تھا۔ میں نے آج تک متعدد بزرگ کو آزمایا مگر آپ کی طرح کوئی بھی ثابت قدم نہ نکلا۔ کچھ بزرگ تو مجھے دیکھ کر سخت گھبرا گئے اور بعض دلی طور پر خوف زدہ ہوئے ، مگر آپ واحد ہستی ہیں، جن کا ظاہر و باطن ایک جیسا رہا۔ اس کے بعد اس جن نے حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ علیہ سے درخواست کی کہ مجھے توبہ کرا دیں تو انہوں نے اس کی بات مانتے ہوئے توبہ کر ادی.
(بحوالہ کتاب: حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ بحیثیت پیران پیر، صفحہ نمبر216 ناشر: محبوب بک ڈپو، اتر پردیش انڈیا
