عبقری میں شائع ہونے والے جنات کے متعلق واقعات کا ہمارے اکابر کی زندگی میں کیا ثبوت ہے، آئیے اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے آج ایک اور واقعہ قارئین کے پیشِ خدمت ہے۔ حضرت مولانا قمر عثمانی صاحب (سابق مدرس دارالعلوم، انڈیا) لکھتے ہیں کہ شیخ ابوالفضل جوہری رحمۃ اللہ علیہ مصر کے بہت بڑے ولی اللہ تھے۔ ایک شخص ان کی شہرت کا چرچا سن کر ان کی خدمت میں حاضر ہوا تو ان کی شاہانہ ٹھاٹھ باٹھ دیکھ کر دل ہی دل میں سوچنے لگا: دنیاوی شان و شوکت رکھنے والا شخص اللہ کا ولی کیسے ہو سکتا ہے؟ اور مایوس ہو کر واپس چل پڑا۔ راستے میں ایک عورت کو روتے ہوئے دیکھا تو ازراہِ ہمدردی اس سے رونے کی وجہ پوچھی۔ کہنے لگی: بیٹا میں ایک بیوہ عورت ہوں اور میری ایک ہی بیٹی ہے، جس کی دو دن کے بعد شادی ہے، مگر اس پر کوئی ظالم جن مسلط ہو گیا ہے۔ سوچتی ہوں کہ بیٹی کو اس سے نجات کیسے ملے گی؟ (قارئین! اب جو لوگ عبقری میگزین میں ایسے واقعات پڑھ کر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ بھلا انسانوں کو جنات کیسے چمٹ سکتے ہیں؟ ان کیلئے یہ واقعہ ایک روشن مثال ہے) بہرحال وہ شخص کچھ دم درود جانتا تھا تو کہنے لگا: اماں جی! آپ پریشان نہ ہوں، میں آپ کی بیٹی کا علاج کروں گا۔ چنانچہ جب وہ اس عورت کے ساتھ گھر پہنچا تو اس کی بیٹی عجیب و غریب حرکتیں کر رہی تھی۔ اس شخص نے اس پر دم کیا تو جن حاضر ہو گیا اور کہنے لگا:
میں ان 7 جنات میں سے ہوں جنہوں نے حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا تھا۔ آج ہم ساتوں جنات حضرت شیخ ابوالفضلؒ کے پیچھے نماز پڑھنے حاضر ہوئے ہیں، جن سے تم بدگمان ہو کر واپس جا رہے ہو۔ ہم جب یہاں سے گزر رہے تھے تو اس لڑکی نے گندگی پھینکی جو مجھ پر گری اور میں گندگی میں لتھڑ گیا۔ میرے باقی 6 ساتھی تو نماز میں شریک ہونے چلے گئے مگر میں محروم رہ گیا، اس لیے مجھے اس پر غصہ آیا تو میں نے اسے پکڑ لیا۔ اب مجھے تم پر بھی غصہ ہے کہ تم اس ولی اللہ کے بارے بدگمانی کرتے ہو؟ جن کے پیچھے نماز پڑھنے کیلئے ہم اتنی دور سے آئے ہیں؟ وہ شخص کہنے لگا: میں توبہ کرتا ہوں کہ آئندہ ان کے متعلق دل میں برا خیال نہیں لاؤں گا مگر تم بھی اس لڑکی پر شفقت کرتے ہوئے اسے معاف کر دو۔ چنانچہ وہ جن چلا گیا اور لڑکی صحت یاب ہو گئی۔ پس جب وہ شخص حضرت ابوالفضل رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں واپس پہنچا تو انہوں نے دیکھتے ہی فرمایا: سبحان اللہ! تمہیں جب تک ایک جن سے گواہی نہ مل گئی، ہمارے متعلق یقین ہی نہ آیا؟
(بحوالہ کتاب: مبارک تذکرے، صفحہ 178 ناشر: محبوب بک ڈپو، یو پی انڈیا)
