قسط نمبر 85
حضرت مولانا فضل علی قریشی رحمة الله علیہ کا بے مثال کشف
اکابر پر اعتماد
جو لوگ علامہ لاہوتی صاحب کے کالم ” جنات کا پیدائشی دوست میں کشف القبور کے ذریعے روحوں سے ملاقات کو دیو مالائی اور ماورائی کہانی کہہ کر رد کرنے کی کوشش کرتے ہیں، شاید ان کو پتہ نہیں کہ وہ اکابر کی کتنی روشن اور واضح زندگی سے پہلو تہی برت رہے ہیں، حتی کہ ایسی بے جا تنقید اور اعتراض کے ذریعے اکابر و اسلاف رحمہم اللہ کی ترتیب زندگی کو داغدار بنا رہے ہیں۔ علامہ لاہوتی صاحب دامت برکاتہم کے کشف القبور کے واقعات کی تائید میں ایک روشن واقعہ پیش خدمت ہے۔
حضرت مولانا عبد المالک صاحب صدیقی احمد پوری رحمة الله علیہ لکھتے ہیں کہ ایک مرتبہ قدوة السالكين، شيخ المشائخ حضرت خواجہ فضل علی قریشی نقشبندی رحمة الله علیہ ہندوستان کے سفر میں دارالعلوم کے قبرستان تشریف لے گئے اور مولانا محمد قاسم ، مفتی عزیز الرحمن اور شیخ الہند رحمہم اللہ کے مزارات کے قریب اپنی جماعت کے ہمراہ مراقبہ کیا۔ مراقبے میں خلاف عادت کافی دیر تاخیر ہوئی ۔ فراغت کے بعد مجھ سے مخاطب ہو کر فرمایا : کچھ احوال عرض کروں؟ میں نے عرض کیا : جی حضرت یہ جماعت علماء کی ہے بینا جماعت ہے یہاں کوئی خطرہ نہیں ہے۔ آپ رحمة الله علیہ نے فرمایا کہ میں نے آج مراقبے میں دیکھا کہ ایک سرسبز میدان میں حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ، شاہ عبد العزیز دہلوی ، شاہ رفیع الدین دہلوی مفتی عزیز الرحمن ، شیخ الہند مولانا محمود حسن صاحب ، حضرت مولانا انور شاہ صاحب کشمیری و غیر هم محد ثین رحمہم اللہ نے حضور صلى الله عليه وسلم سے مصافحہ کیا اور مجھے ( مولانا فضل علی قریشی رحمة الله عليه) کو بھی مصافحہ کا شرف حاصل ہوا۔ اس کے بعد آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: یہ تمام حضرات محی السنت ہیں ۔ جب شیخ الاسلام رحمة الله عليه کو یہ بات پتا چلی تو بہت مسرور ہوئے کہ ہمیں شیخ وقت رحمة الله علیہ کی زبانی دنیا کے عالم میں پتا چل گیا کہ ہمارے تمام اکابر و اسلاف بارگاہ رسالت صلى الله عليه وسلم میں مقبول تھے۔
بحوالہ کتاب : مقامات فضلیہ ص 70 ، مصنف : حضرت مولانا سید زوار حسین شاه رحمة الله عليہ
ناشر: زوارا کیڈمی پبلی کیشنز کراچی
