علامہ لاہوتی صاحب کی ” جنات سے ملاقات کو کہانی اور افسانہ کہنے والے لوگ دراصل تعلیمات اکابر سے نا آشنا ہیں انھیں چاہیے کہ وہ اپنے اکابر کی زندگی کو پڑھنے کیلئے کچھ نہ کچھ وقت ضرور فارغ کریں۔۔۔! ذیل میں تاریخ کی ایک بہت بڑی علمی ہستی کی ” جن سے ملاقات کا حیرت انگیز واقعہ پیش خدمت ہے۔ حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میری ایک ”جن“ سے قندھاریہ میں ملاقات ہوئی ، وہاں کسی شخص کے اوپر جن کا اثر تا اور وہ شخص ان پڑھ ہونے کے باوجود قرآن شریف پڑھتا اور مسائل وعلوم معارف بیان کرتا، اور جب جن کا ارختم ہو جاتا تو وہ شخص اسی طرح جاہل ہو جا تا تھا۔ ایک مرتبہ جب میں صبح کی نماز کے بعد اس شخص سے ملا تو اسکی ایسی حرکات تمھیں جو ہوش والے انسان کی نہیں ہوتیں جیسے مدہوش ہو، جب و شخص بیٹھا تو اس کی آنکھیں اوپر کی جانب چڑھ گئیں، پتلیاں بالکل غائب ہو کر سفیدی رہ گئی ، اس کی آنکھیں دیکھ کر ڈر محسوس ہوتا تھا، کچھ دیر میں اس کا سانس چلا اور وہ وہیں بے ہوش ہو کر گر گیا، جب وہ اٹھا تو اس کا سانس ٹھکانے نہیں تھا، پھر وہ بولنا شروع ہوا، اس کی آواز میں ایک ڈراؤ نا پن تھا، اس جن نے مجھے سلام کیا، میں نے وعلیکم السلام کہا۔ اس ” جن“ نے معانقہ کرنا چاہا میں نے کہا اناللہ وانا الیہ راجعون ، میں جن سے کیا معانقہ کروں؟ لیکن نہ چاہتے ہوئے بھی میں نے اس’ جن سے معانقہ کیا، وہ جن بیٹھ گیا۔ اس جن کا نام پوچھا تو اس نے عباس سے ملتا جلتا کوئی نام بتایا۔ میں نے کہا آپ کہاں رہتے ہو؟ تو اس ” جن نے بمبئی کے قریب ایک جزیرہ کا نام بتایا۔ میں نے کہا آپ اس شخص کو کیوں ستاتے ہو؟ وہ جن“ کہنے لگا اس شخص کو مجھ سے اور مجھے اس سے تعلق ہے جب میں اس کے پاس نہیں آتا تو یہ مجھے ڈھونڈتا ہے۔ میں نے ” جن سے کہا آپ ہمیں کیا نفع پہنچا سکتے ہو؟ کہ ہم نے آپ ” جنات کو بہت نفع پہنچایا ہے ۔ وہ جن کہنے لگا : وہ کس طرح؟ میں نے اس ” جن“ سے کہا : آپ لوگ ہمارے شاگرد ہو، دار العلوم میں ہمارے بزرگوں سے ”جنات“ نے علم حاصل کیا ہے، اور مولانا یعقوب صاحب کے زمانے میں ” جنات ظاہر بھی ہوئے تھے، آپ ” جنات“ ہمارے استاذ اور شاگر د بھی ہیں شاگرد اس طرح کہ دار العلوم میں پڑھا ہے اور استاذ اس طرح کہ شاہ ولی اللہ ” نے ” حدیث الجن“ کونے قاضی جنات سے نقل کیا ہے ۔ پھر میں نے اس ” جن سے کہا تم دار العلوم کو کیا فائدہ پہنچا سکتے ہو؟ وہ جن خاموش رہا ہوکر بیٹھ گیا۔ لوگوں نے اس ” جن سے پوچھا کہ تو خاموش کیوں ہو گیا تھا۔ وہ ”جن“ کہنے لگا: مجھے اس وقت کوئی بات سمجھ نہیں آ رہی تھی ۔
( خطبات حکیم الاسلام ج 7 ص 258 حکیم الاسلام قاری محمد طیب صاحب ناشر: مکتبہ امدادیہ ملتان )
محترم قارئین! ایک بات یاد رکھیں اکابر کی زندگی علم اور عقل سے نہیں ادب سے سمجھ میں آتی ہے جو چیز ہماری سمجھ میں نہ آئے ہم اس پر اعتراض کرنا شروع کر دیتے ہیں علامہ لاہوتی صاحب کی ” جنات سے ملاقاتوں کا انکار کر کے نشانہ تو سارا کا سارا ہمارے اکا بر پرہی پڑتا ہے۔۔۔!
