حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا ہمزاد


مولانا صاحب ! میں نے کچھ لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے جن میں بعض اہل علم بھی شامل ہیں، کہ جنات کے وجود کو ماننا’ جنات کا انسانوں کو تنگ کرنا انہیں بیماریاں لگادینا اور انہیں گناہوں میں مبتلاء کرنا کوئی ایمانیات کا مسئلہ نہیں، جس پر ایمان رکھنا ضروری ہو۔

سوال یہ ہے کہ اس طرح کی باتوں کے متعلق ایک مومن کا عقیدہ کیا ہونا چاہیئے ؟ (سائل : قاری عبدالمعید اعوان مری)

جواب : محترم قاری صاحب ! آپ نے بہت اچھا سوال اٹھایا ہے آج کل اس قسم کے باطل عقائد بڑی تیزی سے جنم لے رہے ہیں، جن کی زد میں عوام تو عوام بد قسمتی سے خواص بھی مبتلاء ہورہے ہیں ۔ عالم اسلام کے مشہور مفکر، مدینہ یونیورسٹی کے سینئراستاذ اور مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے ممتاز مبلغ علامہ ابوبکر الجزائری اپنی کتاب ”عقیدۃ المومن“ میں لکھتے ہیں : بندہ مومن یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ دیگر مخلوقات کی طرح جنات کی بھی ایک دنیا آباد ہے جس کا وجود قرآن وحدیث سے ثابت ہے ۔ اس لیے ان (جنات) کا انکار کرنا صریح کفر اور کتاب و سنت کو نہ ماننے اور شریعت کو جھٹلانے کے مترادف ہے۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اللہ پر ایمان رکھنے والا کوئی بھی شخص اس قسم کی جسارت نہیں کر سکتا جو اسے دائرہ اسلام سے خارج کر دے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جنات کے نقصان پہنچانے اور ان سے بچنے کی تدابیر اختیار کرنے کے متعلق کئی احادیث ارشاد فرمائی ہیں۔ چنانچہ ایک جگہ فرمایا : تم میں سے ہر ایک پر اللہ تعالیٰ نے اس کا ہمزاد جن مؤکل کر دیا ہے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ ! کیا آپ پر بھی؟ فرمایا: ہاں مجھ پر بھی، مگر اللہ تعالیٰ نے اس کے مقابلے میں میری مدد کی اور وہ میرا تابع فرمان ہو گیا ہے اب وہ مجھے نیکی کی بات کے سوا کوئی مشورہ نہیں دیتا.

اسی طرح رات کا کھانا کھانے کے بعد ہاتھ دھوئے بغیر سو جانا سخت نقصان دہ عمل ہے حضور سیل صلى الله عليه وسلم کے ارشاد کا مفہوم ہے کہ : شیطان (جن ) بہت زیادہ چوکنا اور حساس ہوتا ہے اس سے بچتے رہا کرو ۔ جو شخص اس طرح رات بسر کرے کہ اس کے ہاتھوں میں گوشت کی چکنائی وغیرہ کی بو ہو اور وہ راتوں رات کسی جانور کا شکار ہو جائے تو وہ اپنے سوا کسی کو برا بھلا مت کہے۔

علامہ ابو بکر الجزائری یہ آگے مزید لکھتے ہیں کہ: انسان جن گناہوں کا ارتکاب کرتا ہے مثلاً زنا کاری اغلام بازی، قتل وغارت شراب نوشی، چوری، کفر وشرک، جھوٹ بے وفائی اور وعدہ خلافی وغیرہ یہ سب جرائم شیطانی اثرات کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ حیرت کی بات ہے کہ جب کوئی معالج یہ کہتا ہے کہ فلاں جراثیم سے فلاں بیماری ہوتی ہے اسے تو مان لیا جاتا ہے حالانکہ جراثیم کوکسی نے بھی بذات خود آنکھوں سے نہیں دیکھا ہوتا اس کے برعکس جب کوئی یہ کہے کہ شیطانی اثرات کی وجہ سے تمہارا اندر بگڑ چکا ہے اور اس سے خلاصی پانے کیلئے تمہیں فلاں تدبیر کرنی چاہئے تو اس کو کوئی نہیں مانتا۔ سبحان اللہ ایسی عجیب بات ہے کہ بیماری کے جراثیم کو دل وجان سے تسلیم کرنے والا بڑائی کے جراثیم کا قائل ہی نہیں۔

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2025